🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. فضيلة آية الكرسي
آیۃ الکرسی کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2082
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا حَكيم بن جُبير الأَسَدي، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"سورةُ البقرة فيها آيةٌ سيِّدُ آيِ القرآن، لا تُقرأُ في بيتٍ وفيه شيطانٌ إلّا خرج منه؛ آيةُ الكُرْسي" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والشيخان لم يخرجا عن حكيم بن جبير لِوهَنٍ في رواياته، إنما تركاه لغُلوِّه في التشيُّع (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سورۃ البقرہ میں ایک آیت ہے جو سیدالقرآن ہے، جس گھر میں یہ پڑھی جائے گی اس میں اگر جنات شیاطین ہوں تو وہ بھاگ جائیں گے، وہ آیت آیۃ الکرسی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حکیم بن جبیر کی روایات اس لیے نقل نہیں کیں کہ یہ روایات میں کمزور تھے۔ بلکہ اس لیے کہ یہ شیعہ مذہب کے بہت سخت پیروکار تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2082]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2082 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حسن لغيره كسابقه، وله ما يشهد له كذلك. سفيان: هو ابن عيينة. وهو في "مسند الحميدي" (994).
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح یہ بھی "حسن لغیرہ" ہے۔ سفیان سے ابن عیینہ مراد ہیں۔ یہ مسند حمیدی (994) میں بھی ہے۔
وأخرجه الترمذي (2878) من طريق زائدة بن قُدَامة، عن حكيم بن جبير، به - دون قوله: "لا تُقرأ في بيت … ".
📖 حوالہ / مصدر: امام ترمذی نے اسے زائدہ بن قدامہ کے طریق سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں "گھر میں نہیں پڑھی جاتی" والے الفاظ نہیں ہیں۔
وسيتكرر برقم (3063) عن علي بن حَمْشاذَ عن بشر بن موسى.
🔁 تکرار: یہ نمبر (3063) پر دوبارہ آئے گی۔
وسيأتي منه قوله: "سيد آي القرآن آية الكرسي" برقم (3067) من طريق زائدة عن حكيم.
📖 حوالہ / مصدر: "آیت الکرسی قرآن کی آیتوں کی سردار ہے" والا حصہ نمبر (3067) پر آئے گا۔
ويشهد لهذا القدر منه حديثُ أُبيّ بن كعب عند مسلم (810) وغيره، بلفظ: "يا أبا المنذر أتدري أيُّ آية من كتاب الله أعظم؟ " قال: قلت: ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾، قال: فضرب في صدري، وقال: "لِيَهنِك العلمُ أبا المنذر".
🧩 متابعات و شواہد: آیت الکرسی کی عظمت پر ابی بن کعب کی صحیح مسلم والی حدیث (جس میں سینے پر ہاتھ مارنے کا ذکر ہے) شاہد ہے۔
ولقوله في آية الكرسي: "لا تُقرأ في بيت وفيه شيطان إلَّا خرج منه" شاهد من حديث أبي هريرة عند البخاري معلقًا بالجزم (2311) و (5010)، والنسائي (10729): أنَّ شيطانًا قال له: إذا أويتَ إلى فراشك فاقرأ آية الكرسي من أولها حتى تختم الآية، وقال له: لن يزال عليك من الله ¤ ¤ حافظٌ ولا يقربك شيطانٌ حتى تصبح، فقال له النبي ﷺ: "صدقك وهو كذوب".
🧩 متابعات و شواہد: گھر سے شیطان کے نکلنے پر ابوہریرہ کی بخاری والی معلق روایت (شیطان کے ساتھ ان کا قصہ) شاہد ہے، جس میں شیطان نے خود کہا تھا کہ آیت الکرسی پڑھنے والے کے قریب شیطان نہیں آتا۔
وقد ورد هذا في عموم سورة البقرة أيضًا، كما سيأتي عن عبد الله بن مسعود بعده وبرقم (2086) و (2087) موقوفًا ومرفوعًا أنَّ الشيطان لا يدخل البيت الذي تقرأ فيه سورة البقرة.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: یہی بات پوری سورہ بقرہ کے بارے میں بھی ثابت ہے کہ جس گھر میں یہ پڑھی جائے وہاں شیطان داخل نہیں ہوتا۔
وعن أبي هريرة عند مسلم (780) وغيره رفعه: "إنَّ الشيطان ينفر من البيت الذي تقرأ فيه سورة البقرة".
📖 حوالہ / مصدر: صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ: "شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورہ بقرہ پڑھی جائے"۔
(1) وعلى غلوّه في التشيع روى ما يدل على فضل أبي بكر وعمر، كما أخرجه الطبراني في "الأوسط" (2728) وغيره من طريقه قال: قلت: لعليّ بن حسين: أشهدُ على عبد خير أنه حدثني أنه سمع عليًا يقول على هذا المنبر: خير هذه الأمة بعد نبيِّها أبو بكر ثم عمر، وقال: لو شئت لسمّيت ثالثًا. والإسناد إلى حكيم صحيح.
📌 اہم نکتہ: حکیم (بن جبیر) اپنے شدید شیعہ رجحانات کے باوجود ایسی روایات نقل کرتے ہیں جو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں۔ امام طبرانی نے ان کے طریق سے نقل کیا ہے کہ علی بن حسین (امام زین العابدین) نے گواہی دی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا: "اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہتر ابوبکر اور پھر عمر ہیں"۔ حکیم تک یہ سند صحیح ہے۔