🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. فضيلة الحال المرتحل وبيانه
ہمیشہ قرآن میں مشغول رہنے والے (حال و مرتحل) کی فضیلت اور اس کی وضاحت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2116
وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنّى، حدثنا عمرو بن مرزوق، حدثنا صالح المُرِّي. وأخبرني أبو بكر بن قريش، أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو كُريب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا صالح المُرِّي، عن قَتَادة عن زُرارة بن أوفى العامِري، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، أيُّ الأعمال أفضلُ؟ قال:"الحالُّ المُرتحِلُ" قال: يا رسول الله، وما الحالُّ المُرتحِل؟ قال:"صاحبُ القرآن يَضرِبُ من أوّلِه حتى يبلغَ آخرَه، ومن آخرِه حتى يبلغَ أوّلَه، كلما حَلَّ ارتحَلَ" (1) . تفرَّد به صالحٌ المرِّي، وهو من زُهّاد أهل البصرة، إلَّا أنَّ الشيخين لم يخرجاه. وله شاهد من حديث أبي هريرة:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حال اور مرتحل۔ اُس نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حال اور مرتحل کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کا قاری اول سے آخر کی طرف سفر کرتے کرتے آخر تک پہنچ جاتا ہے پھر وہاں سے سفر کرتے ہوئے اول تک پہنچ جاتا ہے۔ جیسے ہی سفر ختم کرے، فوراً دوبارہ سفر شروع کر لے۔ ٭٭ یہ حدیث روایت کرنے میں صالح المری متفرد ہیں اور اہلِ بصرہ کے عبادت گزار لوگوں میں سے ہیں۔ مگر شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ان کی رویات نقل نہیں کی ہیں۔ اور ایک حدیث اس کی شاہد ہے جو کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ (وہ شاہد حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2116]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2116 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف كسابقه. أبو المثنّى: هو معاذ بن المثنّى العنبري، وأبو كُريب: هو محمد بن العلاء.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح یہ بھی ضعیف ہے۔ ابو المثنیٰ اور ابو کریب اس کے راوی ہیں۔