🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. فضيلة الحال المرتحل وبيانه
ہمیشہ قرآن میں مشغول رہنے والے (حال و مرتحل) کی فضیلت اور اس کی وضاحت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2118
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العَدْل، قالا: حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو بن دينار، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عُبيد الله بن أبي نَهيكٍ، عن سعد قال: أتيتُه فسألَني مَن أنتَ؟ فأخبرتُه عن نَسَبي، فقال سعد: تجّارٌ كَسَبَةٌ، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ليس مِنا من لم يَتَغنَّ بالقرآن" (2) . قال سفيان: يعني: يَستغني به (1) . وعند سفيان بن عُيينة فيه إسنادٌ آخرُ:
عبداللہ ابن ابی نہیک فرماتے ہیں: میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے مجھ سے میرا تعارف پوچھا، میں نے ان کو اپنا تعارف کروایا، (وہ مجھے پہچان گئے اور کہنے لگے) تم تو کمائی کرنے والے تاجر ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے وہ شخص ہم میں سے نہیں جو قرآن کو اچھی آواز کے ساتھ نہیں پڑھتا سیدنا سفیان فرماتے ہیں: اس کا مطلب ہے (جو قرآن کو اچھی آواز کے ساتھ پڑھنے کی کوشش نہیں کرتا) ٭٭ اسی حدیث کی سفیان بن عیینہ کی ایک اور بھی سند ہے۔ (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2118]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2118 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وللمرفوع شاهد من حديث أبي هريرة عند البخاري (7527).
🧩 متابعات و شواہد: اس مرفوع حدیث کا شاہد صحیح بخاری میں ابوہریرہ کی روایت سے موجود ہے۔
(1) أي: من لم يستغن بالقرآن عن الإكثار من الدنيا فليس منا، أي: على طريقتنا، وقد خالف ابنَ عيينة غيرُه في تفسير التغني، كما بسطه الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 15/ 140 - 142، ومن ذلك أنَّ الليث بن سعد فسره بقوله: يَتَحزّن فيه ويُرقِّق به قلبه، وعن الشافعي أنه قال ردًّا على تفسير ابن عيينة: لو أراد الاستغناءَ لقال: لم يستغن، وإنما أراد تحسينَ الصوت، لكن قال الحافظ: ارتضى أبو عبيد تفسير يتغنّى بيستغني، وقال: إنه جائز في كلام العرب، واستشهد له.
📝 نوٹ / توضیح: "یتغنیٰ" کا ایک مطلب "قرآن سے بے نیازی حاصل کرنا" (استغناء) ہے جیسا کہ ابن عیینہ نے کہا، اور دوسرا مطلب "خوش الحانی سے پڑھنا" ہے جیسا کہ امام شافعی کا قول ہے۔
وجاء في روايةٍ للبخاري (7544) ومسلم (792) (234) من حديث أبي هريرة: "ما أَذِنَ الله لشيء كأَذَنِه لنبيٍّ يتغنّى بالقرآن يجهر به"، قال القرطبي في "المفهم" 2/ 423: هذا أشبهُ (أي: تفسير التغنّي بالجهر) وعلى هذا فسَّره الصحابي، وهو أعلم بالمقال، وأقعد بالحال.
📖 حوالہ / مصدر: بخاری و مسلم کی روایت "یتغنیٰ بالقرآن یجھر بہ" سے واضح ہوتا ہے کہ اس کا مطلب بلند آواز اور خوش الحانی سے پڑھنا ہے۔
(2) إسناده صحيح. وقد اختُلف فيه على ابن أبي مُلَيكة - وهو عبد الله - في اسم تابعيّه وتعيين صحابيّه، كما نبَّه عليه البخاري في "تاريخه الكبير" 5/ 401، والدارقطني في "العلل" (649)، والمزي في "تحفة الأشراف" (3905)، وابن حجر في "نتائج الأفكار" 3/ 203، وغيرهم، وصحَّحوا جميعًا أنه من رواية ابن أبي مُلَيكة عن ابن أبي نَهيكٍ عن سعد بن أبي وقاص، وكذلك صحَّحه أحمد بن حنبل كما في "منتخب علل الخلال" ص 113، والبزار في "مسنده" (1234).
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: سند صحیح ہے۔ ابن ابی ملیکہ کے شاگردوں میں اختلاف ہے مگر محدثین (احمد، بزار وغیرہ) نے اسے سعد بن ابی وقاص کی روایت کے طور پر صحیح قرار دیا ہے۔
الحميدي: هو عبد الله بن الزُّبَير المكي، وسفيان: هو ابن عيينة.
📌 اہم نکتہ: حمیدی سے مراد عبداللہ بن زبیر مکی اور سفیان سے ابن عیینہ مراد ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1549) عن سفيان بن عيينة، وأبو داود (1470) عن عثمان بن أبي شيبة، ¤ ¤ عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. مقتصرًا على المرفوع منه.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد اور ابو داؤد نے اسے سفیان بن عیینہ کی سند سے صرف مرفوعاً روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1337) من طريق إسماعيل بن رافع، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عبد الرحمن بن السائب، قال: قدم علينا سعد بن أبي وقاص، فذكره. قال الحافظ في "نتائج الأفكار" 3/ 202: هذا غريب من هذا الوجه، وإسماعيل بن رافع ضعيف. قلنا: وفي "منتخب علل الخلال" ص 114 عن المرُّوذي أنه سأل أحمد عن هذه الرواية فقال: ليس حديث هذا بشيء، وضعَّفه.
👤 راوی پر جرح: ابن ماجہ کی روایت میں اسماعیل بن رافع ضعیف ہے، امام احمد نے بھی اس کی تضعیف کی ہے۔
وانظر ما سيأتي بعده من الطرق.
🔍 ہدایت: آنے والے دیگر طرق ملاحظہ فرمائیں۔