المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
47. زينوا القرآن بأصواتكم
قرآن کو اپنی آوازوں سے خوبصورت بناؤ۔
حدیث نمبر: 2138
فحدَّثَناه أبو النَّضر الفقيه بالطابَران وأبو نصر الفقيه ببُخارى، قالا: حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا عُبيد الله بن عمر القَواريري، حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، حدثني طلحة بن مُصرِّف، عن عبد الرحمن بن عَوْسَجة، عن البراء قال: قال رسول الله ﷺ:"زَيِّنوا القرآنَ بأصواتِكم" (1) . قال عبد الرحمن: وكنت نُسِّيتُ هذه الكلمةَ حتى ذكَّرَنيه الضحاكُ بن مُزاحِم (2) . قال الحاكم: قد حدَّثَ بهذا الحديث جماعةٌ عن شعبة عن طلحة، الحديثَ بطولِه، ولم يذكر هذه اللفظة"كنت نُسِّيتُ" غيرُ يحيى بن سعيد ومعاذ العَنْبري.
سیدنا شعبہ رضی اللہ عنہ، طلحہ بن مصرف کے واسطے سے عبدالرحمن بن عوسجہ کے ذریعے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” قرآن کو اپنی آوازوں کے ساتھ زینت دو۔ “ ٭٭ عبدالرمن فرماتے ہیں: میں یہ جملہ بھول گیا تھا، پھر ضحاک بن مزاحم نے مجھے یاد دلایا۔ امام حاکم فرماتے ہیں: یہ حدیث محدثین رحمۃ اللہ علیہم کی ایک جماعت نے شعبہ کے واسطے سے طلحہ سے تفصیلاً روایت کی ہے۔ لیکن یہ لفظ ” میں بھول گیا تھا۔ “ یحیی بن معاذ اور معاذ العنبری کے سوا کسی نے بھی یہ روایت نقل نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2138]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2138 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو النضر الفقيه: هو محمد بن محمد بن يوسف، وأبو نصر الفقيه: هو أحمد بن سهل، كنية الأول بالضاد المعجمة، والثاني بالصاد المهملة، ويحيى بن سعيد: هو القطان.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: سند صحیح ہے۔ ابوالنضر (محمد بن محمد) اور ابو نصر (احمد بن سہل) دونوں ثقہ ہیں، اور یحییٰ القطان اس کے مرکزی راوی ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (1342) عن محمد بن بشار، والنسائي (1090) عن عمرو بن علي الفلّاس، كلاهما عن يحيى بن سعيد، بهذا الإسناد. ولم يذكر ابن ماجه في روايته مقالة عبد الرحمن بن عوسجة في آخره.
📖 حوالہ / مصدر: ابن ماجہ اور نسائی نے اسے یحییٰ القطان کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر ابن ماجہ نے آخری حصہ ذکر نہیں کیا۔
وأخرجه ابن ماجه (1342) من طريق محمد بن جعفر، عن شعبة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے شعبہ کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
(2) يعني أنَّ الضحاك بن مزاحم، هو أحد مَن سمعه مِن عبد الرحمن بن عوسجة، لكننا لم نقف عليه من طريقه عن عبد الرحمن بن عوسجَة، فالظاهر أنَّ أحدًا لم يحمله عنه.
🔍 فنی نکتہ: ضحاک بن مزاحم نے بھی اسے عبدالرحمن بن عوسجہ سے سنا ہے، مگر ان کے طریق سے مروی کوئی باقاعدہ سند ہمیں نہیں مل سکی۔