المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
47. زينوا القرآن بأصواتكم
قرآن کو اپنی آوازوں سے خوبصورت بناؤ۔
حدیث نمبر: 2143
فحدَّثَنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوْري، حدثنا أبو يحيى عبد الحميد بن عبد الرحمن الحِمّاني، حدثنا مالك بن مِغْوَل وفِطْر بن خَليفة، عن طلحة بن مُصرِّف، عن عبد الرحمن بن عَوْسَجة، عن البراء بن عازب قال: كان رسول الله ﷺ يمسح مَناكِبَنا في الصلاة؛ وذكر الحديث. قال البراء: وسمعت رسول الله ﷺ يقول:"زَيِّنوا القرآنَ بأصواتِكم" (2) . وأما حديث محمد بن طلحة عن أبيه:
سیدنا فطر بن خلیفہ، طلحہ بن مصرف کے واسطے سے عبدالرحمن بن عوسجہ کے ذریعے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پہلے ہمارے کندھوں کو پکڑ کر فرمایا کرتے تھے۔ اس کے بعد پوری حدیث ہے: سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: قرآن کو اپنی آوازوں کے ساتھ زینت دو۔ محمد بن طلحہ کی اپنے والد سے روایت: [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2143]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2143 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الحميد بن عبد الرحمن الحِمّاني، وهو لم ينفرد به عن فطر بن خليفة ولا عن مالك بن مِغوَل، فقد تابعه في روايته عن مالك بن مِغوَل عبدُ الله بن نمير عند أبي علي الطُّوسي في "مستخرجه على الترمذي" (1548)، ومحمدُ بن سابق بالحديث الثاني كما تقدم برقم (2127).
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح اور سند قوی ہے، کیونکہ راوی حِمّانی اس میں تنہا نہیں بلکہ عبداللہ بن نمیر نے ان کی متابعت کی ہے۔
وتابعه في روايته عن فطرِ بنِ خليفة بالحديث الأول أبو نعيم الفضل بن دُكين عند أبي العباس السرّاج في "مسنده" (755).
🧩 متابعات: فطر بن خلیفہ کی روایت میں ابو نعیم فضل بن دکین نے امام سراج کے ہاں متابعت کی ہے۔
وإنما ذكرنا هذه المتابعات لئلا يُظَنَّ أنَّ روايتَه هنا معلولةٌ بروايته الآتية برقم (2156) عن مالك بن مِغول وفطر بن خليفة، عن إسماعيل بن رجاء، عن أوس بن ضمعج، عن البراء.
🔍 فنی نکتہ: یہ متابعات ثابت کرتی ہیں کہ یہ روایت معلول (خراب) نہیں بلکہ محفوظ ہے۔