🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. زينوا القرآن بأصواتكم
قرآن کو اپنی آوازوں سے خوبصورت بناؤ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2155
فحدَّثَناه علي بن الحسن الرُّصَافي، حدثنا [أبو] (1) العباس، عن (2) أحمد بن الحسن بن سعيد بن عثمان الخزاز، حدثني أبي، قال: وجدتُ في كتاب جَدّي: حدثنا حُصين بن مُخارِق، حدثنا أبو مريم عبد الغفار بن القاسم، عن عديّ بن ثابت، عن البراء، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"زَيِّنوا القرآنَ بأصواتِكم" (3) . وأما حديث أوس بن ضَمْعَجٍ:
سیدنا عدی بن ثابت، سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرآن کو اپنی آوازوں کے ساتھ زینت دو۔ اوس بن ضمعج کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2155]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2155 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) سقط لفظ "أبو" من نسخنا الخطية، وأثبتناه من "إتحاف المهرة" (2116)، وقيده الحافظ ابن حجر بقوله: أبو العباس بن عُقْدة، وهذا هو الصحيح، فإنَّ أبا العباس بن عُقْدة - واسمه أحمد بن محمد بن سعيد الحافظ المشهور - معروف بالرواية عن أحمد بن الحسن الخزاز، فقد روى ابن الشجري في "أماليه الخميسية" عدة أحاديث من طريقه عنه.
📝 تصحیح: قلمی نسخوں سے لفظ "ابو" گر گیا تھا، درست "ابو العباس بن عقدہ" ہے جو مشہور حافظِ حدیث ہیں۔
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: بن.
📝 تصحیح: نسخوں میں یہاں تحریف ہوئی تھی۔
(3) إسناده تالف بمرةٍ، علي بن الحسن - وهو ابن جعفر العطار المعروف بابن كرنيب وحُصين بن مخارق وعبد الغفار بن القاسم، اتُّهِموا بوضع الحديث، وقد روى أبو العباس بن عُقْدة عن أحمد بن الحسن بن سعيد عن أبيه عدة روايات عند الدارقطني وابن الشجري في "أماليه الخميسية" لا يذكر في شيء منها جدّه، إنما يرويها عن أبيه عن حصين بن مخارق مباشرة! وقد اضطرب فيه حُصين بن مخارق كما نبَّه عليه الدارقطني في "الغرائب" كما في "أطرافه" لابن طاهر المقدسي (1396).
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ سند بالکل تالف (برباد) ہے، اس کے راویوں پر حدیث گھڑنے کا الزام ہے اور اس میں سخت اضطراب ہے۔
ويغني عن هذه الرواية رواية مَن رواه عن طلحة بن مُصرِّف عن عبد الرحمن بن عوسجة عن البراء في الطرق المتقدمة، وكذا رواية زاذان عن البراء المتقدمة قبله.
📌 اہم نکتہ: طلحہ بن مصرف اور زاذان کی پچھلی صحیح روایات اس من گھڑت سند سے بے نیاز کر دیتی ہیں۔