المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنِ اتَّقَى
تقویٰ اختیار کرنے والے کے لیے مال دار ہونا کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 2161
أخبرنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو الوليد الطيالسي ويحيى بن بُكَير، قالا: حدثنا الليث بن سعد. وأخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي وأبو سعيد عمرو بن محمد بن منصور، قالا: حدثنا عُمر (1) بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا الليث بن سعد، عن بُكير بن عبد الله بن الأشَجّ، عن الضحَّاك بن عبد الرحمن بن خالد بن حِزام، عن جده خالد بن حِزام: أنَّ حكيم بن حِزام أعانَ (2) بفرسين يوم حُنَين (3) فأُصيبا، فأتى رسولَ الله ﷺ فقال: أصيبَ فرسايَ يا رسول الله، فأعطاهُ، ثم استزادَه فزادَه، ثم استزادَه، فقال رسول الله ﷺ:"يا حكيمُ، إنَّ هذا المالَ خَضِرةٌ حُلْوةٌ، ومن سأل الناسَ أعطَوه، والسائلُ منها كالآكِلِ ولا يَشبَعُ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2132 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2132 - صحيح
سیدنا خالد بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے جنگ حنین کے دن دو گھوڑوں کے ساتھ (مجاہدین کی) مدد کی، وہ دونوں گھوڑے کام آگئے، پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے دونوں گھوڑے کام آگئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (مال) عطا فرمایا، انہوں نے مزید مانگا تو آپ نے مزید دیا، انہوں نے پھر مزید مانگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حکیم! بے شک یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے، اور جو لوگوں سے مانگتا ہے تو وہ اسے دے دیتے ہیں، لیکن اس میں سے مانگنے والا اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا تو ہے مگر اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2161]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2161]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2161] [ترقيم الشركة 2142] [ترقيم العلميه 2132]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2161 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (ب) إلى: عثمان، وفي (ع) إلى: عمرو، وهو عمر بن حفص أبو بكر السَّدوسي، له ترجمة في "تاريخ بغداد" 11/ 216.
📝 نام کی تصحیح: نسخوں میں عثمان یا عمرو لکھا گیا جو غلط ہے، درست نام "عمر بن حفص ابو بکر السدوسی" ہے۔
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: أغار، من الغارة، والمثبت على الصواب من "تلخيص المستدرك" للذهبي، ومن "إتحاف المهرة" للحافظ (4355) من المعونة، وهو الذي في مصادر تخريج الحديث عدا "تاريخ دمشق"، ونظنه تحرَّف فيها أيضًا، والله أعلم.
📝 لفظی تصحیح: نسخوں میں "اغار" (حملہ کرنا) لکھا تھا، درست لفظ "أعان" (مدد کی) ہے، جیسا کہ ذہبی اور ابن حجر نے تصریح کی ہے۔
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: خيبر، وجاء على الصواب في مصادر التخريج، وحكيم لم يسلم إلّا في فتح مكة بعد خيبر، وقد شهد حنينًا.
📝 تصحیح: نسخوں میں "خیبر" لکھا تھا، مگر درست "حنین" ہے، کیونکہ حکیم بن حزام فتح مکہ کے بعد اسلام لائے تھے اور وہ غزوہ حنین میں شریک تھے۔
(4) حديث صحيح دون ذكر الإعانة بفرسين، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الضحاك بن عبد الرحمن، فلم يرو عنه غير بكير بن الأشج، وقد تفرَّد بذكر الإعانة بالفرسين، ثم هو مرسلٌ فلم يذكر أحدٌ من أصحاب الليث في إسناده خالد بن حزام إلّا عاصم بن علي - وهو ابن عاصم الواسطي - وهو لا بأس به لكن له ما يُنكر، وخالفه أبو الوليد الطيالسي وعيسى بن حماد وغيرهما من الثقات، فرووه عن الليث فلم يذكروا خالد بن حزام، وكذلك رواه عمرو بن الحارث عن بكير بن الأشج.
⚠️ تحقیق: حدیث صحیح ہے مگر "دو گھوڑوں سے مدد" کا ٹکڑا ثابت نہیں ہے۔ اس کا راوی ضحاک بن عبدالرحمن مجہول ہے، اور یہ روایت مرسل بھی ہے۔
وعلى فرض صحة ذكر خالد بن حزام في إسناده على التنزُّل، فهو منقطع أيضًا إن كان خالد المذكور هو ابنَ حزام على ظاهر ما وقع هنا، وأنه أخو حكيم بن حزام، وقد مات في حياة النبي ﷺ قبل أخيه حكيم، فيتعذر سماع الضحاك منه، وإن كان هو خالد بن حكيم بن حزام، ونسب إلى جده، فيمكن سماع الضحاك منه، وعلى أي حالٍ فلا يثبت ذكر خالد في إسناده كما بينّا، والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ: اگر سند میں خالد بن حزام کا نام درست مان بھی لیا جائے، تب بھی یہ روایت منقطع ہے کیونکہ خالد کی وفات نبی ﷺ کی زندگی میں ہی ہو گئی تھی، لہذا ضحاک کا ان سے سننا ناممکن ہے۔
لكن روي الحديث من وجوه أخرى صحيحة عن حكيم بن حزام، فالاعتماد عليها في تصحيح هذا الحديث. ¤ ¤ وأخرجه ابن سعد في "الطبقات الكبرى" 6/ 52، وابن قانع في "معجم الصحابة" 1/ 165، والطبراني في "الكبير" (3112) من طريق أبي الوليد الطيالسي، والطبراني (3112) من طريق عبد الله بن صالح كاتب الليث، ومن طريق شعيب بن يحيى التُّجِيبي، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 15/ 111 من طريق عيسى بن حماد، أربعتهم عن الليث بن سعد، عن بكير، عن الضحاك، عن حكيم بن حزام، إلّا عيسى فقال: أنَّ حكيم بن حزام، فذكره.
🧩 متابعات: یہ حدیث حکیم بن حزام سے دیگر صحیح طرق سے ثابت ہے، لہذا ان صحیح روایات پر اعتماد کیا جائے گا۔ طبرانی اور ابن سعد نے اسے لیث بن سعد کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني (3113) و (3114) من طريق عمرو بن الحارث، عن بكير، عن الضحاك، فأما في الموضع الأول فقال: عن حكيم، وفي الموضع الثاني فقال: أنَّ حكيم بن حزام.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے عمرو بن الحارث کے طریق سے دو جگہ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (1472) و (2750)، ومسلم (1035) من طرق عن الزُّهْري، عن عروة بن الزُّبَير وسعيد بن المسيب، عن حكيم بن حزام. لكن دون ذكر أنَّ القصة كانت في حُنين.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری و مسلم نے زہری کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر اس میں غزوہ حنین کا تذکرہ نہیں ہے۔
وقد ورد النص بأنها كانت في حنين في رواية عبد الرزاق (16407) عن معمر، وكذا في رواية ابن وهب في "جامعه" (585 - أبو الخير) عن يونس بن يزيد، كلاهما عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيب مرسلًا.
📌 اہم نکتہ: غزوہ حنین کی صراحت عبدالرزاق اور ابن وہب کی مرسل روایات میں موجود ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (6163).
🔍 ہدایت: مزید تفصیل نمبر (6163) پر ملاحظہ فرمائیں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2161 in Urdu