🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنِ اتَّقَى
تقویٰ اختیار کرنے والے کے لیے مال دار ہونا کوئی حرج نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2160
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرنا سليمان بن بلال. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، حدثنا سليمان بن بلال. وأخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جدِّي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثنا سليمان بن بلال، حدثني عبد الله بن سليمان بن أبي سَلَمة، أنه سمع معاذ بن عبد الله بن خُبيب الجُهَني يحدِّث عن أبيه، عن عمِّه: أنَّ رسول الله ﷺ خرج عليهم وعليه أثرُ غُسل، وهو طيّبُ النفس، قال: فظننا أنه ألمَّ بأهله، فقلنا: يا رسول الله، نراكَ أصبحت طيِّبَ النفسِ، قال:"أجل، والحمدُ لله"، قال: ثم ذكر الغِنى، فقال رسول الله ﷺ:"لا بأس بالغِنى لمن اتّقى، والصحة لمن اتّقى خيرٌ من الغنى، وطِيبُ النفسِ من النعيم" (1) .
هذا حديث مدنيٌّ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، والصحابي الذي لم يُسمِّه سليمان بن بلال هو يَسارُ بن عبد الله الجُهَني (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2131 - صحيح
سیدنا معاذ بن عبداللہ بن خبیب الجہنی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے، وہ ان کے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو آپ پر غسل کا اثر تھا اور آپ بہت خوش (نظر آ رہے) تھے (راوی) فرماتے ہیں ہم سمجھے کہ آپ اپنی کسی زوجۂ محترمہ کے پاس سے تشریف لا رہے ہیں۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ نے بڑے ہشاش بشاش انداز میں صبح کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔ (راوی) فرماتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دولتمندی کا ذکر کیا اور فرمایا: صاحب تقویٰ شخص کو دولتمندی کا کوئی نقصان نہیں ہے اور صاحبِ تقویٰ شخص کے لیے دولتمندی سے زیادہ بہتر صحت ہے اور طبیعت کا ہشاش ہونا بھی (اللہ تعالیٰ کی) نعمت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث مدنی ہے صحیح الاسناد ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ہے اور وہ صحابی جن سے سلیمان بن بلال رضی اللہ عنہ کا سماع ثابت نہیں ہے وہ یسار بن عبدالجہنی رضی اللہ عنہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2160]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2161
أخبرنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو الوليد الطيالسي ويحيى بن بُكَير، قالا: حدثنا الليث بن سعد. وأخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي وأبو سعيد عمرو بن محمد بن منصور، قالا: حدثنا عُمر (1) بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا الليث بن سعد، عن بُكير بن عبد الله بن الأشَجّ، عن الضحَّاك بن عبد الرحمن بن خالد بن حِزام، عن جده خالد بن حِزام: أنَّ حكيم بن حِزام أعانَ (2) بفرسين يوم حُنَين (3) فأُصيبا، فأتى رسولَ الله ﷺ فقال: أصيبَ فرسايَ يا رسول الله، فأعطاهُ، ثم استزادَه فزادَه، ثم استزادَه، فقال رسول الله ﷺ:"يا حكيمُ، إنَّ هذا المالَ خَضِرةٌ حُلْوةٌ، ومن سأل الناسَ أعطَوه، والسائلُ منها كالآكِلِ ولا يَشبَعُ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2132 - صحيح
سیدنا خالد بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے غزوہ خیبر کے دن دو گھوڑوں کے ہمراہ جنگ لڑی اور یہ دونوں گھوڑے جنگ میں مارے گئے، وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میرے دونوں گھوڑے ہلاک ہو گئے ہیں۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کچھ مال دیا۔ انہوں نے مزید مال کی خواہش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید دے دیا، انہوں نے پھر مزید طلب کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حکیم! یہ مال سبز اور میٹھا ہے۔ جو لوگوں سے مانگتا ہے، لوگ اسے دے دیتے ہیں اور اس کا مانگنے والا ایسا ہی جیسے کوئی کھا رہا ہو لیکن وہ سیر نہ ہو سکے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2161]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں