🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. إن الله لا ينال فضله بمعصية
اللہ کا فضل نافرمانی کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2166
حدثنا أبو زكريا العَنْبَري وعلي بن عيسى وأبو بكر بن جعفر، قالوا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا عبيد الله بن معاذ بن معاذ، حدثنا المُعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن حَنَش بن قيس الرَّحَبي، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يُغبَطنَّ جامعُ المالِ من غير حِلِّه - أو قال: من غير حقِّه - فإنه إن تَصدَّق لم يُقبَلْ منه، وما بقي كان زادَه إلى النار" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حرام مال جمع کرنے والے پر رشک مت کرو یا (شاید یہ فرمایا کہ) ناحق مال جمع کرنے والے پر (رشک مت کرو) اس لیے کہ اگر وہ اس مال کو صدقہ کرے تو قبول نہیں ہے اور جو باقی رہے گا وہ اس کے لیے جہنم کا باعث ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2166]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2166 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل حَنَش بن قيس الرحبي - واسمه حُسين، وحنش لقبه - فهو متروك الحديث، ولهذا تعقَّب المنذري تصحيح الحاكم بقوله: كيف وحنش متروك؟!
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حنش بن قیس کی وجہ سے یہ سند انتہائی ضعیف ہے۔ وہ "متروک الحدیث" (جس کی حدیث ترک کر دی جائے) ہے، اسی لیے علامہ منذری نے حاکم کی تصحیح پر رد کرتے ہوئے کہا: "حاکم اسے صحیح کیسے کہہ سکتے ہیں جبکہ حنش متروک ہے؟"
وأخرجه أبو العباس السرَّاج في "حديثه" (2612)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (5138) من طريق علي بن عاصم الواسطي، عن أبي علي حنش الرحبي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام سراج اور بیہقی نے علی بن عاصم کی سند سے حنش الرحبی کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان في "المجروحين" 1/ 242 من طريق حصين بن نمير، عن حنش، لكنه قال: عن عطاء عن ابن عمر!
📖 حوالہ / مصدر: ابن حبان نے اسے "المجروحین" میں حصین بن نمیر کے طریق سے نقل کیا ہے، مگر اس میں "عن عطاء عن ابن عمر" کے الفاظ ہیں۔
وقد صحَّ عن النبي ﷺ أنه قال: "من تصدق بعَدل تمرةٍ من كسب طيّب، ولا يقبل اللهُ إلّا الطيّب، وإنَّ الله يتقبلها بيمينه، ثم يربّيها لصاحبه كما يربّي أحدكم فَلُوَّه حتى تكون مثل الجبل"، أخرجه البخاري (1410) ومسلم (1014) من حديث أبي هريرة، واللفظ للبخاري.
صحیح حدیث: نبی ﷺ سے یہ بات صحیح ثابت ہے کہ "جس نے حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر بھی صدقہ کیا، اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول فرماتا ہے اور اسے پہاڑ جتنا بڑا کر دیتا ہے"۔ (بخاری: 1410، مسلم: 1014)
وقال ﷺ: "من جمع مالًا حرامًا ثم تصدق به لم يكن له فيه أجر، وكان إصرُه عليه"، وقد سلف عند المصنف برقم (1456) من حديث أبي هريرة أيضًا، وإسناده حسن في المتابعات والشواهد. وانظر تمام شواهده هناك.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے حرام مال جمع کر کے صدقہ کیا، اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا بلکہ گناہ اسی پر رہے گا"۔ یہ حدیث ابوہریرہؓ سے مروی ہے اور شواہد کی بنا پر حسن ہے۔