🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. ليأتين على الناس زمان لا يبقى فيه أحد إلا أكل الربا
لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ کوئی شخص سود کھائے بغیر نہ رہے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2191
حدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا الحسن بن سفيان. وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد؛ قالا: حدثنا وهب بن بقيّة الواسِطي، حدثنا خالد بن عبد الله، عن داود بن أبي هند، عن الحسن، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لَيأتيَنَّ على الناس زمانٌ لا يبقى فيه أحدٌ إِلَّا أَكَلَ الرِّبا، فإن لم يأكُلْه أصابَه مِن غُبارِه" (3) . قد اختلف أئمتُنا في سماعِ الحسنِ عن أبي هريرة، فإن صحَّ سماعُه منه ف
هذا حديثٌ صحيحٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2162 - سماع الحسن من أبي هريرة بهذا صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ ہر شخص سود کھا رہا ہو گا۔ اگر کوئی (بلاواسطہ) سود نہیں کھا رہا ہو گا تو اس کو بھی اس کے اثرات ہر حال پہنچ ہی جائیں گے۔ ٭٭ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حسن کے سماع کے متعلق ہمارے ائمہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اگر حسن کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہو جائے تو یہ حدیث صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2191]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2191 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف لانقطاعه، فإنَّ الحسن - وهو البصري - لم يسمع من أبي هريرة، وداود لم يسمع هذا الحديث من الحسن كما نصَّ عليه الدارقطني في "العلل" 10/ 258 (1996)، إلا أنَّ ¤ ¤ الواسطة بينهما قد عُلمت إذ صُرِّح بها في أكثر مصادر التخريج، وهو سعيد بن أبي خيرة.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ سند منقطع (ٹوٹی ہوئی) ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ حسن بصری کا ابوہریرہؓ سے سماع ثابت نہیں، اور داؤد نے بھی اسے حسن سے نہیں سنا۔
والظاهر أنَّ هذا الاختلاف من داود بن أبي هند، فكان يُسقط أحيانًا ذكر سعيد بن أبي خيرة، كما يدلُّ عليه كلام الدارقطني في "العلل" حيث ذكر أنَّ حفص بن غياث رواه عن داود بن أبي هند أيضًا بإسقاط سعيد بن أبي خيرة. وعلى أيّ حال يبقى في الحديث علة الانقطاع بين الحسن وأبي هريرة.
🔍 فنی نکتہ: بظاہر داؤد بن ابی ہند کبھی واسطہ (سعید بن ابی خیرہ) بیان کرتے تھے اور کبھی گرا دیتے تھے، مگر بہرحال انقطاع موجود ہے۔
وأخرج أبو داود هذا الحديث (3331) عن وهب بن بقية، به فذكر سعيد بن أبي خيرة فيه.
📖 حوالہ / مصدر: امام ابو داؤد نے اسے واسطے (سعید بن ابی خیرہ) کے ذکر کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2278) من طريق إسماعيل ابن عُليَّة، والنسائي (5999) من طريق محمد بن أبي عدي، كلاهما عن داود بن أبي هند عن سعيد بن أبي خيرة، عن الحسن، عن أبي هريرة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ اور نسائی نے بھی مکمل واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 16/ (10410)، وأبو داود (3331) من طريق عباد بن راشد، عن سعيد بن أبي خيرة، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد اور ابو داؤد نے اسے عباد بن راشد کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرج البخاري (2083) من حديث سعيد المقبري عن أبي هريرة عن النبي ﷺ: "ليأتين على الناس زمان لا يبالي المرء بما أخذ من المال، أمِن الحلال أم من الحرام".
صحیح حدیث: امام بخاری نے ابوہریرہؓ سے روایت کیا کہ "لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جب انسان پرواہ نہیں کرے گا کہ اس نے مال حلال سے لیا یا حرام سے"۔