🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا
جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2190
أخبرني الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا عبد الله بن مَسلَمة القَعْنبي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن أبي عمرو، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا لَزِمَ غَريمًا له بعشرة دنانير، فقال: والله لا أُفَارِقُك حتَّى تَقضيَني أو تأتيَني بحَمِيلٍ، قال: فتَحمَّل بها النبيُّ ﷺ، فأتاه بقَدْر ما وَعَدَه، فقال له النبيُّ ﷺ:"من أين أصبتَ هذا الذهبَ؟" قال: من مَعْدِنٍ، قال:"لا حاجةَ لنا فيها، ليس فيها خَيرٌ"، فقَضَاها عنه رسولُ الله ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2161 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنے قرض دار کو دس دینار کے عوض پکڑ لیا اور کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک تم میرا حق ادا نہ کر دو یا کوئی ضامن (گارنٹر) نہ لے آؤ، راوی کہتے ہیں: پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ضامن بن گئے، پھر وہ شخص اتنی (سونے کی مقدار) لے آیا جس کا اس نے وعدہ کیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا: تم نے یہ سونا کہاں سے حاصل کیا؟ اس نے عرض کیا: ایک کان سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں، اس میں کوئی خیر نہیں ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی طرف سے) اس کا قرض ادا کر دیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2190]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد من أجل عمرو بن أبي عمرو» [ترقيم الرساله 2190] [ترقيم الشركة 2171] [ترقيم العلميه 2161]

الحكم على الحديث: إسناده جيد

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2190 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده جيد من أجل عمرو بن أبي عمرو - وهو مولى المطَّلب - فهو صدوق لا بأس به.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: عمرو بن ابی عمرو کی وجہ سے یہ سند جید (بہتر) ہے، وہ صدوق راوی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (3328) عن عبد الله بن مسلمة القعنبي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد نے قعنبی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2406) عن محمد بن الصبّاح، عن عبد العزيز بن محمد الدَّراوردي، به. وسيأتي برقم (2259).
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے روایت کیا اور یہ دوبارہ نمبر (2259) پر آئے گی۔
والحَميل: الكفيلُ والضامنُ.
📖 لغوی تشریح: "حمیل" سے مراد ضامن یا گارنٹی دینے والا (Guarantor) ہے۔
والمعدن: الموضع الذي يُستخرج منه جواهرُ الأرض كالذهب والفضة والنحاس وغير ذلك.
📖 لغوی تشریح: "معدن" (کان) وہ جگہ ہے جہاں سے زمین کے جواہر جیسے سونا، چاندی اور تانبا وغیرہ نکالے جاتے ہیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2190 in Urdu