المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. الجالب إلى سوقنا كالمجاهد فى سبيل الله
جو شخص ہمارے بازار میں سامان لاتا ہے وہ اللہ کی راہ میں مجاہد کی مانند ہے۔
حدیث نمبر: 2197
ما أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد، حدثنا جدّي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني محمد بن طلحة بن (2) عبد الرحمن بن طلحة، عن عبد الرحمن بن أبي بكر بن المغيرة، عن عمه اليَسَع بن المغيرة، قال: مَرَّ رسولُ الله ﷺ برجلٍ بالسوق، يبيع طعامًا بسعرٍ هو أرخَصُ من سعر السوق، فقال له:"تبيعُ في سوقِنا بسعر هو أرخَصُ من سعرنا؟" قال: نعم، قال:"صبرًا واحتسابًا؟" قال: نعم، قال:"أبشِرْ، فإنَّ الجالِبَ إلى سوقِنا كالمجاهد في سبيل الله، والمحتكِرُ في سوقِنا كالمُلحِد في كتاب الله" (3) . ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2167 - خبر منكر وإسناد مظلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2167 - خبر منكر وإسناد مظلم
سیدنا یسع بن مغیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں ایک ایسے شخص کے قریب سے گزرے جو مارکیٹ نرخ سے سستے داموں گندم بیچ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم ہمارے بازار میں ہمارے مارکیٹ نرخ سے کم ریٹ پر سودا کر رہے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: صبر اور ثواب کی نیت سے؟ اس نے کہا جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تیرے لیے خوشخبری ہو کیونکہ ہمارے بازار میں سودا لانے والا مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے اور ہمارے بازار سے ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملحد فی کتاب اللہ کی طرح ہے۔ چھٹی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2197]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2197 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عن. وإنما هو محمد بن طلحة بن عبد الرحمن بن طلحة التيمي.
📝 تصحیح: نسخوں میں "عن" تحریف ہوا ہے، درست نام محمد بن طلحہ بن عبدالرحمن ہے۔
(3) إسناده ضعيف لجهالة عبد الرحمن بن أبي بكر بن المغيرة، ولإرساله، لأنَّ اليسع تابعي صغير معروف، كما بينه الحافظ في "الإصابة" 6/ 722. وقول الذهبي ﵀: إسناده مظلم، فيه مجازفة منه. ¤ ¤ وقد روي عن عمر بن الخطاب من قوله بسند حسن: أنَّ احتكار الطعام بمكة إلحاد، فقيّده بمكة. أخرجه البخاري في "التاريخ الكبير" 7/ 255 - 256، والأزرقي في "أخبار مكة" 2/ 135، والفاكهي في "أخبار مكة" (1776)، وابن المنذر في "الأوسط" (7987).
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: سند ضعیف ہے کیونکہ عبدالرحمن مجہول ہے اور "یسع" نامی راوی تابعی صغیر ہیں (انقطاع ہے)۔ حضرت عمرؓ سے مکہ میں احتکار کو "الحاد" (گناہ) کہنا حسن سند سے ثابت ہے۔
وعن عمر أيضًا قال: من جاء أرضنا بسلعةٍ فليبعها كما أراد، وهو ضيفي حتى يخرج، وهو أسوتنا، ولا يَبعْ في سوقنا محتكر. أخرجه عبد الرزاق (14901 - 14903)، وانظر تمام تخريجه عند الحديث (2193).
📖 حوالہ / مصدر: حضرت عمرؓ نے فرمایا: "جو ہمارے ملک میں سامان لائے وہ جیسے چاہے بیچے، وہ ہمارا مہمان ہے، لیکن ہمارے بازار میں ذخیرہ اندوز فروخت نہ کرے"۔