🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. الجالب إلى سوقنا كالمجاهد فى سبيل الله
جو شخص ہمارے بازار میں سامان لاتا ہے وہ اللہ کی راہ میں مجاہد کی مانند ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2198
ما حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن يونس، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا زيدٌ أبو المُعلَّى. وحدثنا أبو بكر قال: وأخبرنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا عَمرو بن علي، حدثنا المُعتمِر بن سليمان، قال: سمعتُ زيدًا أبا المُعلى يحدِّث عن الحسن، عن مَعقِل بن يَسار، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَن دَخَلَ في شيءٍ من أسعارِ المسلمين ليُغْليَ عليهم، كان حقًّا على الله أن يَقذِفَه في مُعظَمِ جهنَّم، رأسُه أسفلَه" (1) . هذه الأحاديث الستة طلبتُها وخَرَّجتها في موضعها من هذا الكتاب احتسابًا لما فيه الناسُ من الضِّيق، والله يَكشِفُها، وإن لم يكن مِن شرط هذا الكتاب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2168 - لا أعرف زيدا فتأمل هذه الستة أحاديث
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مسلمانوں میں گراں فروشی کے لیے، ان کے نرخوں میں اضافہ کی کوشش کرے تو یہ اللہ پر یہ حق ہے کہ اس کو جہنم کے بڑے گڑھے میں اوندھے منہ پھینک دے۔ ٭٭ اگرچہ یہ احادیث ہماری اس کتاب کے معیار کے مطابق تو نہیں ہیں لیکن میں نے اس تنگی کا احتساب کرتے ہوئے جس میں عوام مبتلا ہیں، ان کو تلاش کر کے کتاب کے اس مقام پر نقل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تنگی کو دور فرمائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2198]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2198 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده جيد من جهة الحسين بن محمد بن زياد من أجل زيد أبي المعلَّى - وهو زيد بن مرة، ويقال: يزيد بن أبي ليلى - فهو صدوق لا بأس به، وفي الإسناد الآخر محمد بن يونس - وهو الكديمي - ضعيف جدًّا.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حسین بن محمد بن زیاد کے واسطے سے یہ سند جید ہے کیونکہ زید ابو المعلّٰی صدوق اور لا بأس بہ (درست) راوی ہیں۔ جبکہ دوسری سند میں محمد بن یونس الکدیمی انتہائی ضعیف ہے۔
وأخرجه أحمد 33/ (20313) عن عبد الصمد بهذا الإسناد. بلفظ: "فإنَّ حقًّا على الله أن يُقعده بعُظْم من النار يوم القيامة".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے آگ کے بڑے حصے میں بٹھائے"۔
ومُعظَم جهنم وعُظْمها: وسطُها، قال ابن سِيدَهْ: عُظْم الشيء ومُعظَمه: وسطُه.
📖 لغوی تشریح: جہنم کے "عُظم" یا "معظم" سے مراد اس کا درمیانی اور سب سے بڑا حصہ ہے۔ ابن سدہ کے مطابق کسی بھی چیز کا "عُظم" اس کا وسط (Center) ہوتا ہے۔