المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. البيعان بالخيار ما لم يتفرقا ، ويأخذ كل واحد منهما من البيع ما يهوى
خریدار اور فروخت کنندہ جدا ہونے تک اختیار رکھتے ہیں، اور ہر ایک کو بیع سے وہی لینے کا حق ہے جو وہ چاہے۔
حدیث نمبر: 2212
أخبرنا الشيخ أبو الوليد، أخبرنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار، حدثنا أبو خَيْثمة زُهير بن حَرْب، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة بن جُندُب، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"البَيِّعانِ بالخِيار ما لم يَتَفَرّقا ويأخُذُ كلُّ واحدٍ منهما من البيع ما يَهْوَى" قالها ثلاثًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة (2) . حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في جمادى الآخرة سنة سبع وتسعين وثلاث مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2182 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة (2) . حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في جمادى الآخرة سنة سبع وتسعين وثلاث مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2182 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خرید و فروخت کرنے والے ایک دوسرے سے جدا ہونے تک بااختیار ہوتے ہیں اور دونوں میں ہر ایک بیع میں سے جو چاہے اختیار کر سکتا ہے (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے) یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن اس زیادتی کے ہمراہ انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2212]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2212 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، وقد ثبت سماع الحسن - وهو البصري - من سمرة كما بيناه برقم (151).
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: سند صحیح ہے، اور حسن بصری کا سمرہؓ سے سماع ثابت ہے جیسا کہ نمبر (151) پر واضح کیا گیا۔
قتادة: هو ابن دِعامة السَّدُوسي، وهشام: هو ابن أبي عبد الله الدَّستُوائي.
👤 راویوں کی شناخت: قتادہ السدوسی اور ہشام الدستوائی اس کے اہم راوی ہیں۔
وأخرجه النسائي (6029) عن عمرو بن علي الفلّاس، عن معاذ بن هشام، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام نسائی نے اسے معاذ بن ہشام کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 33/ (20182) عن عبد الرحمن بن مهدي، عن هشام: به. دون قوله: "ويأخذ كل واحد" إلى آخره.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے عبدالرحمن بن مہدی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (20142) و (20253) من طريق سعيد بن أبي عَروبة، وأحمد أيضًا (20189) و (20252)، والنسائي (6030) من طريق همام بن يحيى، وأحمد (20241)، وابن ماجه (2183) من طريق شعبة بن الحجاج، ثلاثتهم عن قتادة، به. ولم يذكر سعيد وشعبة في روايتهما قوله في الحديث: "ويأخذ كل واحدٍ" إلى آخره، ولفظ همام: "ويأخذ كل واحدٍ منهما ما رضي من البيع".
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد اور ابن ماجہ نے شعبہ، سعید اور ہمام کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
(2) يعني بزيادة قوله: "ويأخذ كل واحدٍ منهما من البيع ما يهوى".
📝 وضاحت: یعنی اس اضافے کے ساتھ کہ "ہر ایک سودے میں سے وہ لے لے جو اسے پسند ہو"۔