المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
21. اشتراط البائع خدمة العبد المبيع وقتا معلوما
بیچنے والے کے لیے یہ شرط رکھنا جائز ہے کہ فروخت کیے گئے غلام سے مقررہ مدت تک خدمت لے۔
حدیث نمبر: 2213
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا موسى بن إسحاق القاضي، حدثنا عبد الله بن أبي شَيْبة، حدثنا زيد بن الحُباب، عن الحسين بن واقد، حدثني عبد الله بن بُريدة، عن أبيه: أنَّ سلمان لما قَدِم المدينة أتى رسولَ الله ﷺ بهديةٍ على طَبَقٍ، فوضعها بين يديه، فقال:"ما هذا يا سلمانُ؟" قال: صدقةٌ عليك وعلى أصحابك، قال:"إني لا آكُلُ الصدقةَ" فرفعها، ثم جاءه من الغدِ بمثلها، فوضعها بين يديه، فقال:"ما هذا؟" قال: هديةٌ لك، فقال رسول الله ﷺ لأصحابه:"كُلُوا" قال:"لمن أنت؟" قال: لقومٍ، قال:"فاطلُب إليهم أن يُكاتِبُوك"، قال: فكاتَبُوني على كذا وكذا نخلةً أغرِسُها لهم، ويقومُ عليها سلمانُ حتى تُطعِمَ، قال: ففَعَلُوا، قال: فجاء النبيُّ ﷺ فغَرَسَ النخلَ كلَّه إلّا نخلةً واحدةً غرسَها عمرُ، وأطعَمَ نخلُه مِن سَنَتِه إِلَّا تلك النخلةَ، قال رسول الله ﷺ:"مَن غَرَسَها؟" قالوا: عمرُ، فَغَرَسَها رسولُ الله ﷺ من يده، فحَمَلَت من عامِها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، أخرجه الشيخُ أبو بكر في باب الرخصة في اشتراط البائع خدمةَ العبد المَبيع وقتًا معلومًا. وله شاهد من حديث ابن عباس عن سلمانَ صحيحٌ على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2183 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، أخرجه الشيخُ أبو بكر في باب الرخصة في اشتراط البائع خدمةَ العبد المَبيع وقتًا معلومًا. وله شاهد من حديث ابن عباس عن سلمانَ صحيحٌ على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2183 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں، جب سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے تو انہوں نے ایک تھال میں تحفہ رکھ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے سلمان! یہ کیا ہے؟ سلمان نے جواباً کہا، آپ کے لیے اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم کے لیے صدقہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں صدقہ نہیں کھاتا ہوں۔ اس نے وہ تھال اٹھا لیا۔ پھر اگلے دن اسی طرح کا تحفہ لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواباً کہا: آپ کے لیے اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم کے لیے ” ہدیہ “ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: اس کو کھاؤ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم کس کے (غلام) ہو؟ اس نے اپنے آقا کے قبیلے کا نام بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں سے مطالبہ کرو کہ وہ تمیں مکاتب بنا دیں، سلمان فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھے مکاتب بنا دیا اور بدل کتاب یہ طے کیا کہ میں ان کے لیے ایک مخصوص تعداد میں درخت لگاؤں گا اور پھل آنے تک ان کی نگرانی بھی کروں گا۔ (راوی) فرماتے ہیں ان لوگوں نے ان کو مکاتب بنا دیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور تمام درخت کاشت کر دیئے البتہ ایک درخت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کاشت کیا تو اس ایک درخت کے علاوہ باقی تمام درختوں پر اسی سال پھر آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ درخت کس نے لگایا تھا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خود اپنے ہاتھ سے کاشت کیا تو اگلے سال اس پر بھی پھل آ گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ شیخ ابوبکر نے ” بیچنے والے کے لیے یہ شرط رکھنا جائز ہے کہ بیچا ہوا غلام ایک مقرر مدت تک اس کی خدمت کرے گا “ کے باب میں بیان کیا ہے۔ اور اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سلمان کے حوالے سے روایت کی ہے۔ وہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح بھی ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ یہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2213]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2213 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي، الحسين بن واقد صدوق لا بأس به.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حسین بن واقد کی وجہ سے سند قوی ہے، وہ صدوق راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (22997) عن زيد بن الحباب، بهذا الإسناد. وانظر ما بعده.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے زید بن الحباب کی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله: "يُكاتبوك" من المكاتبة: وهو أن يُكاتِب الرجلُ عبدَه على مالٍ يؤدّيه إليه العبدُ منجّمًا (أي: مقسَّطًا) فإذا أدّاه صار حُرًّا، وسميت كذلك لأنه يكتب على نفسه لمولاه ثمنه، ويكتب مولاه له عليه العتق.
📖 لغوی تشریح: "مكاتبت" یہ ہے کہ غلام اپنے مالک سے ایک طے شدہ رقم کے بدلے آزادی کا معاہدہ کرے جو وہ قسطوں میں ادا کرے۔
وقوله: "أطعَمَ نخلُه" أي: أثمر، أي: صار ذا طَعْم وشيئًا يؤكل منه.
📖 لغوی تشریح: "اطعم نخلہ" کا مطلب ہے کہ کھجور کا درخت پھل دینے کے قابل ہو گیا اور اس کا ذائقہ بن گیا۔
وقد اختلفت الروايات فيما أدَّاهُ سلمان الفارسي مقابل مكاتبته، ففي رواية بُريدة هنا أنه أدَّى كذا وكذا نخلة. هكذا دون تقييد، وزاد أحمد في روايته: فاشتراه رسول الله ﷺ بكذا وكذا درهمًا، وعلى أن يغرس نخلًا.
⚠️ سندی اختلاف: حضرت سلمان فارسیؓ کی مکتاتبت کی قیمت میں روایات مختلف ہیں۔ بریدہ کی روایت میں تعداد مبہم ہے جبکہ احمد کی روایت میں درہم اور کھجور کے پودے لگانے کا ذکر ہے۔
وفي رواية ابن عباس، عن سلمان، وستأتي بعده: أنه كاتب على ثلاث مئة نخلة وبأربعين أوقية. وقد ساق ابن إسحاق في "السيرة" روايةَ ابن عباسٍ بطولها.
📖 حوالہ / مصدر: ابن عباسؓ کی روایت میں 300 کھجور کے درخت اور 40 اوقیہ چاندی کا ذکر ہے، جسے ابن اسحاق نے تفصیل سے لکھا ہے۔
وفي رواية أبي عثمان النهدي عن سلمان الآتية برقم (2898): أنه كاتب على خمس مئة فَسيلة (أي: فسيلة النخل).
📖 حوالہ / مصدر: ابو عثمان کی روایت (2898) میں 500 کھجور کے پودوں (فسیلہ) کا ذکر ہے۔
وفي رواية أبي الطُّفيل عن سلمان الآتية برقم (6689): أنه كاتب على مئة نخلة، وعلى قطعة من ذهب بوزن نواة. ويوافقه مرسل سعيد بن المسيب عند عبد الرزاق (15765) وغيره، بذكر عدد النخل، لكن دون ذكر قطعة الذهب. ورجاله ثقات.
📖 حوالہ / مصدر: ابو الطفیل کی روایت (6689) میں 100 کھجور کے درخت اور گٹھلی کے برابر سونے کا تذکرہ ہے، جس کی تائید سعید بن مسیب کی مرسل روایت سے بھی ہوتی ہے۔
وفي رواية زيد بن صوحان عن سلمان الآتية برقم (6688): أنَّ أبا بكر اشتراه فأعتقه.
📖 حوالہ / مصدر: زید بن صوحان کی روایت (6688) میں ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے انہیں خرید کر آزاد کیا۔
واختلفت هذه الروايات أيضًا فيما نبت من النخل المذكور، ففي رواية بُريدة هنا أنها نبتت كلها إلّا واحدة، كان عمر بن الخطاب غرسها بيده. وكذلك في رواية أبي عثمان، غير أنه ذكر أنَّ التي لم تنبت كان سلمان نفسه هو من غرسها.
📝 واقعاتی اختلاف: پودوں کے اگنے کے متعلق بھی اختلاف ہے؛ ایک روایت کے مطابق حضرت عمرؓ کا لگایا ہوا ایک پودا نہیں اگا تھا، جبکہ دوسری میں ہے کہ وہ پودا سلمانؓ نے خود لگایا تھا۔
وفي رواية ابن عباس أنه ما مات منها نخلة واحدة.
📖 حوالہ / مصدر: ابن عباسؓ کے مطابق ان میں سے ایک پودا بھی ضائع نہیں ہوا۔
وقد أشار البيهقيُّ في "سننه الكبرى" 10/ 322 إلى بعض هذه الاختلافات، ثم قال: وفي ثبوت بعض هذه الروايات نظر.
📌 تحقیقی نکتہ: امام بیہقی نے ان اختلافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بعض روایات کے ثبوت پر کلام کیا ہے۔
وقال ابن كثير في "البداية والنهاية" 3/ 520: وطريق محمد بن إسحاق أقوى إسنادًا، وأحسن اقتصاصًا.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ محمد بن اسحاق کی بیان کردہ سند سب سے زیادہ قوی اور قصہ بیان کرنے میں بہترین ہے۔