المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. النهي عن بيع الحب حتى يشتد ، وعن بيع العنب حتى يسود ، وعن بيع التمر حتى يحمر ويصفر
دانہ اس وقت تک بیچنے کی ممانعت ہے جب تک سخت نہ ہو جائے، انگور جب تک سیاہ نہ ہوں، اور کھجور جب تک سرخ یا زرد نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 2226
أخبرَناه أبو بكر محمد بن حاتم العَدْل بمَرْو، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو حذيفة النَّهْدي، حدثنا زهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله: أنَّ رجلًا أتى رسولَ الله ﷺ فقال: إِنَّ لفلانٍ في حائطي عِذْقًا، وقد آذاني وشَقَّ عَليَّ مكانُ عِذْقِه، فأرسلَ إليه رسولُ الله ﷺ فقال:"بِعْني عِذقَكَ الذي في حائط فلانٍ" قال: لا، قال:"هَبْهُ" قال: لا، قال:"فبِعْنِيهِ بعِذْقٍ في الجنة" قال: لا، فقال رسول الله ﷺ:"ما رأيتُ أبخلَ منك إلّا الذي يَبخلُ بالسلام" (3) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: فلاں شخص کا ایک خوشہ (پھل دار شاخ) میرے باغ میں ہے جس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور اس کی جگہ کی وجہ سے مجھ پر تنگی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (مالک) کو بلا بھیجا اور فرمایا: ”فلاں کے باغ میں موجود اپنا یہ خوشہ مجھے بیچ دو“، اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ہبہ (تحفہ) کر دو“، اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے جنت کے ایک خوشے کے بدلے مجھے بیچ دو“، اس نے (پھر بھی) انکار کر دیا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم سے زیادہ بخیل کسی کو نہیں دیکھا سوائے اس کے جو سلام کرنے میں بخل کرے (یعنی سلام نہ کرے)۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2226]
تخریج الحدیث: «حسن بشواهده، دون قوله: "ما رأيت أبخل … إلخ"، عبد الله بن محمد بن عَقيل حسن الحديث في الاعتبار، ويشهد لحديثه حديثُ أنس السابق وغيره.» [ترقيم الرساله 2226] [ترقيم الشركة 2208]
الحكم على الحديث: حسن بشواهده
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2226 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حسن بشواهده، دون قوله: "ما رأيت أبخل … إلخ"، عبد الله بن محمد بن عَقيل حسن الحديث في الاعتبار، ويشهد لحديثه حديثُ أنس السابق وغيره.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ اپنی تائیدی روایتوں (شواہد) کی بنا پر "حسن" ہے، سوائے اس جملے کے "میں نے اس سے بڑا بخیل نہیں دیکھا..." 📝 توضیح: عبد اللہ بن محمد بن عقیل کی حدیث اعتبار کے لیے "حسن" ہے اور حضرت انس کی سابقہ حدیث اس کی تائید کرتی ہے۔
وأخرجه أحمد 22/ (14517) عن أبي عامر العَقَدي، عن زهير بن محمد، به. ¤ ¤ ويشهد له بنحوه حديث أبي صالح عن بعض أزواج النبي ﷺ عند أحمد 38/ (23085)، ورجاله ثقات.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (22/ 14517) نے زہیر بن محمد کے طریق سے روایت کیا ہے 🧩 متابعات و شواہد: امام احمد (38/ 23085) نے ابوصالح کے طریق سے نبی ﷺ کی بعض ازواج سے بھی اسے روایت کیا ہے جس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
وقد ورد في غير هذه القصة أنَّ أبخل الناس من يبخل بالسلام، من حديث أبي هريرة موقوفًا عليه عند البخاري في "الأدب المفرد" (1042)، وابن حبان (4498)، وإسناده صحيح، وقد روي مرفوعًا، لكن الصحيح وقفه كما قال الدارقطني في "العلل" (2234).
🧩 متابعات و شواہد: دیگر روایات میں آتا ہے کہ "بخیل ترین وہ ہے جو سلام میں بخل کرے" 📖 حوالہ / مصدر: یہ ابوہریرہ کا موقوف قول ہے (الادب المفرد 1042) جس کی سند صحیح ہے ⚖️ حکم / درجۂ حدیث: امام دارقطنی کے مطابق اس کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے۔
وعن عبد الله بن مغفَّل مرفوعًا عند الطبراني في "الأوسط" (3392)، وفي "الصغير" (335)، وفي "الدعاء" (61)، وقال المنذري في "الترغيب والترهيب" 1/ 198: إسناده جيد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے عبد اللہ بن مغفل سے مرفوعاً روایت کیا ہے ⚖️ حکم / درجۂ حدیث: امام منذری کے بقول اس کی سند "جید" (عمدہ) ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2226 in Urdu