🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. عهدة الرقيق أربع ليال
غلام کی ضمان چار راتیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2232
حدثنا علي بن عيسى الحِيْري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عُمر، حدثنا سفيان، حدثني محمد بن إسحاق، عن نافع، عن ابن عمر، قال: كان حَبَّان بن مُنْقِذٍ رجلًا ضعيفًا، وكان قد سُفِع في رأسه مأمومةً، فجعل له رسولُ الله ﷺ الخِيارَ فيما اشترى ثلاثًا، وكان قد ثَقُل لسانُه، فقال له رسول الله ﷺ:"بِعْ وقُل: لا خِلَابةَ". فكنتُ أسمَعُه يقول: لا خِذابةَ لا خِذابةَ. وكان يشتري الشيءَ ويجيء به أهلَه، فيقولون: هذا غالٍ، فيقول: إنَّ رسول الله ﷺ قد خَيَّرني في بَيعي (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2201 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حبان بن منقذ ضعیف آدمی تھے اور کسی صدمے کی وجہ سے ان کا ذہن بھی کمزور ہو چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے خرید کردہ اشیاء میں تین دن کا اختیار دیا تھا۔ ان کی زبان بھی توتلی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کہا: تم تجارت کرتے وقت کہہ دیا کرو لاخلابۃ (یعنی کوئی دھوکہ دہی نہیں چلے گی)۔ میں نے خود ان سے سنا ہے وہ (زبان کے ثقل کی وجہ سے صحیح لفظ ادا نہ کر پاتے جب وہ لاخلابۃ کہتے تو یہ الفاظ نکلتے) لا خذابۃ لاخذابۃ۔ وہ کوئی بھی چیز خرید کر گھر لے آیا کرتے تھے۔ اگر گھر والے کہتے کہ تم مہنگے داموں خرید کر لائے ہو، تو وہ کہتے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیع میں اختیار دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2232]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2232 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح دون قوله في آخر الحديث: وكان يشتري الشيء، إلى آخره، وهذا إسناد ¤ ¤ حسن من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار المطّلبي مولاهم، صاحب المغازي - وقد صرَّح بسماعه عند أحمد وغيره، فأُمن تدليسه، لكن قوله الذي أشرنا إليه آخر الحديث مدرج كما سنبينه.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حدیث "صحیح" ہے سوائے آخری جملے کے ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے، انہوں نے سماع کی صراحت کر دی ہے لہٰذا تدلیس کا خوف نہیں 🔍 علّت / فنی نکتہ: آخری جملہ "مدرج" (راوی کا اپنا کلام) ہے جیسا کہ ہم واضح کریں گے۔
ابن أبي عمر: هو محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني، وسفيان: هو ابن عيينة.
📝 توضیح: ابن ابی عمر سے مراد العدنی ہیں اور سفیان سے مراد ابن عیینہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 10/ (6134) عن يعقوب بن إبراهيم بن سعد، عن أبيه، عن محمد بن إسحاق به. دون قوله في آخر الحديث: وكان يشتري الشيء … إلى آخره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (10/ 6134) نے یعقوب بن ابراہیم کے طریق سے روایت کیا ہے مگر اس میں وہ آخری زائد جملہ موجود نہیں ہے۔
وهذه الزيادة المذكورة إنما سمعها ابن إسحاق من محمد بن يحيى بن حَبّان، قال: كان جدي منقذ بن عمرو … ، فذكره، وقد جاء بيان ذلك مفصَّلًا في رواية يونس بن بكير عند البيهقي 5/ 273، وعبد الأعلى بن عبد الأعلى عند الدارقطني (3011)، كلاهما عن محمد بن إسحاق، فما وقع في رواية الحاكم هنا إدراج، أوهمَ أنَّ هذه الجملة من قول ابن عمر، وليس كذلك.
🔍 علّت / فنی نکتہ: یہ زائد جملہ ابن اسحاق نے محمد بن یحییٰ سے سنا تھا کہ "میرے دادا منقذ بن عمرو..." پس حاکم کی روایت میں یہ "ادراج" ہے جس سے وہم ہوتا ہے کہ یہ ابن عمر کا قول ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
والحديث عند البخاري (2117)، ومسلم (1533) من طريق عبد الله بن دينار عن ابن عمر مختصرًا بلفظ: أنَّ رجلًا ذكر للنبي ﷺ أنه يُخدَع في البيوع، فقال: "إذا بايعتَ فقل: لا خِلابة"، فكان يقوله.
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث بخاری (2117) اور مسلم (1533) میں مختصر الفاظ کے ساتھ موجود ہے کہ "جب تم بیع کرو تو کہو: لا خِلابہ" (کوئی دھوکہ نہیں)۔
وفي الباب عن أنس بن مالك سيأتي برقم (7238).
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت انس بن مالک کی روایت آگے نمبر (7238) پر آئے گی۔
والخِلابة: الخِداع.
📝 توضیح: "الخِلابہ" کا مطلب ہے دھوکہ دہی۔