المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
27. مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ
جس بندے کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو، اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے۔
حدیث نمبر: 2233
أخبرني أبو النَّضْر محمد بن محمد الفقيه، حدثنا محمد بن غالب بن حَرْب الضبّي وصالح بن محمد بن حبيب الحافظ، قالا: حدثنا سعيد بن سليمان الواسِطي، حدثنا محمد بن عبد الرحمن بن مجبَّر، حدثنا عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، عن عائشة: أنها كانت تَدّانُ، فقيل لها: ما لَكِ والدَّيْنَ، وليس عندك قضاءٌ؟ فقالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ما مِن عبدٍ كانت له نِيّةٌ في أداء دَيْنه، إلّا كان له مِن الله عَونٌ"، فأنا ألتَمِسُ ذلكَ العَونَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُويَ عن محمد بن علي بن الحسين عن عائشة مثلُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2202 - ابن مجبر وهاه أبو زرعة وقال النسائي متروك لكن وثقه أحمد
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُويَ عن محمد بن علي بن الحسين عن عائشة مثلُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2202 - ابن مجبر وهاه أبو زرعة وقال النسائي متروك لكن وثقه أحمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ قرض لیا کرتی تھیں، ان سے کہا گیا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں جبکہ آپ کے پاس ادائیگی کے ظاہری اسباب نہیں ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس کسی بندے کی اپنے قرض کو ادا کرنے کی نیت ہو، تو اللہ کی طرف سے اسے مدد حاصل ہوتی ہے۔“ تو میں اسی غیبی مدد کی تلاش میں رہتی ہوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا، اور محمد بن علی بن حسین کے واسطے سے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح کی روایت مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2233]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا، اور محمد بن علی بن حسین کے واسطے سے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح کی روایت مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2233]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، محمد بن عبد الرحمن بن مجبَّر متروك الحديث، وسيأتي بعده بإسناد أحسن منه، وله شواهد يصح بها.» [ترقيم الرساله 2233] [ترقيم الشركة 2215] [ترقيم العلميه 2202]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2233 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا، محمد بن عبد الرحمن بن مجبَّر متروك الحديث، وسيأتي بعده بإسناد أحسن منه، وله شواهد يصح بها.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی ضعیف" ہے کیونکہ محمد بن عبدالرحمن متروک الحدیث ہے 🧩 متابعات و شواہد: تاہم آگے اس سے بہتر سند اور شواہد آئیں گے جن سے یہ صحیح ہو جائے گی۔
وأخرجه البيهقي 5/ 354 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے (5/ 354) میں حاکم کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (5222) من طريق محمد بن الفضل السقطي، عن سعيد بن سليمان، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الاوسط" (5222) میں سعید بن سلیمان کے طریق سے روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2233 in Urdu