المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
29. مَنْ تَدَايَنَ بِدَيْنٍ وَلَيْسَ فِي نَفْسِهِ وَفَاؤُهُ ، ثُمَّ مَاتَ ، اقْتَصَّ اللَّهُ لِغَرِيمِهِ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
جو شخص قرض لیتا ہے اور دل میں ادائیگی کی نیت نہیں رکھتا، پھر مر جاتا ہے تو قیامت کے دن اللہ اس کے قرض خواہ کو اس سے بدلہ دلائے گا۔
حدیث نمبر: 2239
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن شاذان الجوهري، حدثنا عمرو بن مرزوق وعمرو بن حَكّام، قالا: حدثنا شعبة. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا الحُسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمد بن بشار ومحمد بن المثنى، قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عُمارة بن أبي حفصة، عن عكرمة، عن عائشة، قالت: قلت: يا رسول الله، ثوباك غَليظانِ فلو نَزَعْتَهما وبعثتَ إلى فلانٍ التاجرِ، فأرسَلَ إليك ثوبين إلى المَيسَرة، قال: فأرسَلَ إليه:"ابعَثْ إِليَّ ثَوبَينِ إِلى المَيسَرةِ"، فأَبَى (1) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کے کپڑے موٹے ہیں، کاش آپ انہیں اتار دیتے اور فلاں تاجر کے پاس پیغام بھیجتے کہ وہ آپ کو سہولت ہونے تک دو جوڑے ادھار بھیج دے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیغام بھیجا کہ: ”میرے پاس سہولت ہونے تک دو جوڑے بھیج دو۔“ تو اس نے انکار کر دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2239]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2239] [ترقيم الشركة 2221]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2239 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد 42/ (25141) عن محمد بن جعفر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (42/ 25141) نے محمد بن جعفر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2239 in Urdu