المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
39. زن وأرجح
تولو اور زیادہ دو۔
حدیث نمبر: 2261
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُزاعي بمكة، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرّة. وأخبرنا بكر بن محمد الصَّيرفي بِمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفَضْل؛ قالا: حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، قال: سمعتُ سفيان بن سعيد الثَّوْري. وأخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرْو، حدثنا أحمد بن سيّار، حدثنا محمد بن كثير. وأخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا أبو حُذيفة؛ قالا: حدثنا سفيان، عن سِماك بن حَرْب، عن سُويد بن قيس قال: جلبتُ أنا ومَخْرَمَةُ العَبْدي بَزًّا من هَجَرَ - أو البحرين - فلما كنا بمنًى أتانا رسولُ الله ﷺ فاشترى منا سَراويلَ وقَباءً، ووزَّانٌ يَزِنُ بالأجر، فدفع إليه رسولُ الله ﷺ الثمنَ، فقال:"زِنْ وأَرْجِحْ" (2) . رواه شعبة عن سِماك بن حرب:
سیدنا سوید بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور مخرمہ عبدی نے ہجر یا بحرین سے کپڑا منگوایا، جب ہم منیٰ میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے ایک پاجامہ اور قبا خریدی، وہاں ایک وزن کرنے والا اجرت پر وزن کر رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قیمت ادا کرتے ہوئے فرمایا: ”وزن کرو اور جھکتا ہوا (زیادہ) تولو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2261]
تخریج الحدیث: «إسناده حسنٌ من أجل سِماك بن حرب. أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النَّهْدي.» [ترقيم الرساله 2261] [ترقيم الشركة 2243]
الحكم على الحديث: إسناده حسنٌ
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2261 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسنٌ من أجل سِماك بن حرب. أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النَّهْدي.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: سماک بن حرب کی وجہ سے سند "حسن" ہے 📝 توضیح: ابوحذیفہ سے مراد موسیٰ بن مسعود النہدی ہیں۔
وأخرجه أحمد 31/ (19098)، وأبو داود (3336)، وابن ماجه (2220) و (3579)، والترمذي (1305)، والنسائي (6140) و (9592)، وابن حبان (5147) من طرق عن سفيان الثَّوري، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح. وسيأتي عند المصنف برقم (7595).
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد (3336)، ابن ماجہ، ترمذی (1305)، نسائی اور ابن حبان نے سفیان ثوری کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے ⚖️ حکم / درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
والقَبَاء: نوع من الثياب مضمومة أطرافُه، وهو يُلبَس فوق الثياب أو القميص.
📝 توضیح: "القباء" ایک قسم کا لباس ہے جس کے کنارے ملے ہوئے ہوتے ہیں، اسے قمیص یا دیگر کپڑوں کے اوپر پہنا جاتا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2261 in Urdu