🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. زن وأرجح
تولو اور زیادہ دو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2262
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفّار، حدثنا أحمد بن مَهدي بن رُسْتُم الأصبَهاني، حدثنا المُؤمَّل بن إسماعيل، حدثنا شعبة. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة. وأخبرنا أبو أحمد بن أبي الحسن، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا بشر بن خالد العسكري، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن سماك بن حَرْب، قال: سمعتُ أبا صفوان يقولُ: بِعتُ من النبيِّ ﷺ سَراويلَ، فَوَزَنَ لي فأرجَحَ (1) . أبو صفوان كنية سويد بن قيس، هما واحدٌ من صحابيِّي الأنصارِ، والحديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سماک بن حرب بیان کرتے ہیں، ابوصفوان فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شلوار بیچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے ثمنوں کا وزن کروایا اور تول زیادہ رکھا۔ ٭٭ ابوصفوان، سوید بن قیس کی ہی کنیت ہے اور یہ ایک ہی شخص ہے۔ انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں اور یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2262]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2262 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن، غير أنَّ شعبة لم يضبط اسم صحابي الحديث، وضبطه سفيانُ الثَّوري كما في الطريق السابقة، وتابع سفيانَ على تسميته سويدَ بن قيس كلٌّ من قيس بن الربيع عند أبي داود الطيالسي (1288)، وشريك النخعي فيما قاله الدارقطني في "العلل" (3391)، وإسرائيل بن يونس السَّبيعي فيما قاله الدارقطني في "المؤتلف والمختلف" 4/ 2136 في رسم مخرمة ومخرفة. قال أبو داود: رواه قيس كما قال سفيان، والقول قول سفيان. قلنا: وكذلك صحَّح النسائي (6141) والدارقطني في "العلل" رواية سفيان ومن تابعه.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: سند "حسن" ہے، مگر امام شعبہ صحابی کا نام درست محفوظ نہیں رکھ سکے جبکہ سفیان ثوری نے اسے صحیح طور پر "سوید بن قیس" بیان کیا ہے 📌 اہم نکتہ: سفیان کی تائید قیس بن الربیع، شریک النخعی اور اسرائیل بن یونس نے بھی کی ہے، لہٰذا سفیان کا قول ہی معتبر ہے جیسا کہ امام نسائی اور دارقطنی نے بھی صراحت کی ہے۔
على أنَّ الحاكم ومن قبله النسائيُّ - فيما نقله عنه الدولابي في "الكنى" (413) - قد جزما بأنَّ أبا صفوان كنية سويد بن قيس، فإن ثبت ذلك لم يتعارض قول سفيان ومن تابعه مع قول شعبة، لكن يعكر عليه أنَّ شعبة كان أحيانًا يقيد أبا صفوان بابن عميرة، وأحيانًا يسميه مالك بن عميرة، ومرة يقول: ابن عُمير، ومرة يقول: صفوان، ومرة يقول: ابن صفوان، فهذا اضطراب من شعبة يدلُّ على أنه لم يضبط الاسم.
🔍 علّت / فنی نکتہ: امام حاکم اور نسائی کے مطابق ابوصوان، سوید بن قیس ہی کی کنیت ہے، لیکن شعبہ اس نام میں شدید مضطرب رہے، کبھی اسے مالک بن عمیرہ کہتے اور کبھی کچھ اور، جو ان کے عدم ضبط کی دلیل ہے۔
وأخرجه أحمد 39/ (24009/ 45)، وابن ماجه (2221) والنسائي (6141) و (9594) من طريق محمد بن جعفر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (39/ 24009)، ابن ماجہ (2221) اور نسائی (6141) نے محمد بن جعفر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 31/ (19099) عن حجاج بن محمد، و 39/ (24009/ 45) عن يزيد بن هارون، وأبو داود (3337) عن حفص بن عمر ومسلم بن إبراهيم، والنسائي (9593) من طريق أبي داود الطيالسي، و (9595) من طريق سهل بن حماد الدلّال، كلهم عن شعبة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد (3337) اور نسائی نے شعبہ کے مختلف شاگردوں (یزید بن ہارون، مسلم بن ابراہیم وغیرہ) کے طریق سے روایت کیا ہے۔