المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
54. النهي عن بيع الرطب بالتمر
تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنے سے ممانعت ہے۔
حدیث نمبر: 2296
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ، قالا: حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا إسماعيل بن أمية، عن عبد الله بن يزيد، عن أبي عياش، قال: تبايَعَ رجلان على عهد سعد بن أبي وقّاص بسُلْتٍ وشعير، فقال سعد بن أبي وقاص: تبايَعَ رجلان على عهد رسول الله ﷺ ببُسْر ورُطَبٍ، فقال رسول الله ﷺ:"هل ينقُصُ الرُّطَبُ إِذا يَبِس؟" قالوا: نعم، قال:"فلا إذًا" (1) . وهكذا رواه سفيانُ الثَّوْري عن إسماعيل بن أمية:
سیدنا اسماعیل بن امیہ عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ابوعیاش کا بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے زمانے میں دو آدمیوں نے سودا کیا پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو آدمیوں نے خشک اور تر کھجوروں کی خرید و فروخت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تر کھجوریں خشک ہو کر کم ہو جاتی ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب جائز نہیں ہے۔ ٭٭ یونہی اسماعیل بن امیہ سے سفیان ثوری نے بھی روایت کی ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2296]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2296 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح كسابقه. الحُميدي: هو عبد الله بن الزُّبَير المكي، وسفيان شيخُه: هو ابن عُيينة.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند سابقہ سند کی طرح "صحیح" ہے 📝 توضیح: الحمیدی سے مراد عبد اللہ بن زبیر المکی ہیں اور سفیان سے مراد ابن عیینہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1552) عن سفيان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (3/ 1552) نے سفیان بن عیینہ کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
والبُسْر: هو ثمر النخل قبل أن يرطب.
📝 توضیح: "البُسْر" کھجور کے اس پھل کو کہتے ہیں جو ابھی پک کر نرم (رطب) نہ ہوا ہو۔