المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
54. النهي عن بيع الرطب بالتمر
تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنے سے ممانعت ہے۔
حدیث نمبر: 2298
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ، قالا: حدثنا هشام بن علي، حدثنا عبد الله بن رجاء، حدثنا حَرْب بن شدّاد، عن يحيى بن أبي كثير، حدثنا عبد الله بن يزيد، أنَّ أبا عياش أخبره، أنه سمع سعد بن أبي وقاص يقول: نهى رسولُ الله ﷺ عن بيع الرُّطَب بالتمْر نَسيئةً (2) .
هذا حديثٌ صحيحٌ، لإجماع أئمة النقل على إمامة مالك بن أنس، وأنه محكَّمٌ في كل ما يرويه من الحديث، إذ لم يوجد في رواياته إلّا الصحيح، خصوصًا في حديث أهل المدينة، ثم لمتابعة هؤلاء الأئمة إيّاه في روايته عن عبد الله بن يزيد، والشيخان لم يُخرجاه لما خَشِيَاه من جهالة زيدٍ أبي عيّاش (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2267 - صحيح ولم يخرجاه لما خشيا من جهالة أبي عياش
هذا حديثٌ صحيحٌ، لإجماع أئمة النقل على إمامة مالك بن أنس، وأنه محكَّمٌ في كل ما يرويه من الحديث، إذ لم يوجد في رواياته إلّا الصحيح، خصوصًا في حديث أهل المدينة، ثم لمتابعة هؤلاء الأئمة إيّاه في روايته عن عبد الله بن يزيد، والشيخان لم يُخرجاه لما خَشِيَاه من جهالة زيدٍ أبي عيّاش (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2267 - صحيح ولم يخرجاه لما خشيا من جهالة أبي عياش
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک کھجوروں کے بدلے تازہ پکی ہوئی کھجوریں ادھار کے طور پر بیچنے سے منع کیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ ائمۂ نقل کا مالک بن انس کی امامت پر اجماع ہے نیز یہ کہ تمام مرویات میں یہ محکم ہے کیونکہ ان کی روایت کردہ تمام احادیث صحیح ہیں۔ بالخصوص اہل مدینہ کی روایت میں۔ پھر ان تمام اَئمہ کے اس حدیث کو عبداللہ بن یزید سے روایت کرنے میں ان کی متابعت کرنے کی وجہ سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو نقل نہیں کیا کیونکہ ان کو زید پر ابوعیاش کو مجہول رکھنے پر اعتراض ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2298]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2298 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده قوي من أجل عبد الله بن رجاء: وهو الغُداني. إلَّا أنَّ قوله فيه: نسيئة، مخالَف فيه، فقد قال الدارقطني في "سننه" بعد الحديث (2994): وخالفه (يعني يحيى بن أبي كثير) مالك وإسماعيل بن أمية والضحاك بن عثمان وأسامة بن زيد، رووه عن عبد الله بن يزيد، ولم يقولوا فيه: نسيئة، واجتماع هؤلاء الأربعة على خلاف ما رواه يحيى يدل على ضبطهم للحديث، وفيهم إمام حافظ وهو مالك بن أنس. انتهى.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: عبد اللہ بن رجاء الغدانی کی وجہ سے سند "قوی" ہے، لیکن اس میں "نسیئہ" (ادھار) کے لفظ میں مخالفت کی گئی ہے 📌 اہم نکتہ: امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ امام مالک، اسماعیل بن امیہ اور دیگر ثقہ راویوں نے اس میں ادھار کا ذکر نہیں کیا، ان چاروں کا اتفاق یحییٰ بن ابی کثیر کے مقابلے میں زیادہ معتبر ہے کیونکہ ان میں امام مالک جیسے حافظِ حدیث بھی شامل ہیں۔
وأخرجه أبو داود (3360) من طريق معاوية بن سلّام، عن يحيى بن أبي كثير، بهذا الإسناد. لكن تابع يحيى على ذكر النسيئة في الخبر عمرانُ بن أبي أنس عند ابن المنذر في "الأوسط" (8059)، والطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (6173)، وفي "شرح معاني الآثار" 4/ 6 من طريق عمرو بن الحارث، عن بكير بن الأشج، عن عمران بن أبي أنس، أنَّ مولًى لبني مخزوم حدثه: أنَّه سأل سعد بن أبي وقاص عن الرجل يُسلِف الرجلَ بالتمر إلى أجل، فقال سعد: نهانا رسولَ الله ﷺ عن هذا. كذا قال: مولى لبني مخزوم، وهو أبو عياش نفسُه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (3360) نے یحییٰ بن ابی کثیر کی سند سے روایت کیا ہے، تاہم ابن المنذر اور طحاوی کی روایات میں عمران بن ابی انس نے بھی ادھار کا ذکر کیا ہے اور وہاں "مولیٰ لبنی مخزوم" سے مراد خود ابو عیاش ہی ہیں۔
وقد خولف عمرو بن الحارث في روايته، فرواه مخرمة بن بكير بن عبد الله الأشج، عن أبيه، ¤ ¤ عن عمران، عن أبي عياش، عن سعد، نحو روايتي مالك وإسماعيل بن أمية المتقدمتين قبله بدون ذكر النسيئة، وستأتي روايته عند المصنف برقم (2314). وهو المحفوظ في حديث سعد هذا، والله أعلم.
🔍 علّت / فنی نکتہ: عمرو بن الحارث کی اس روایت میں بھی مخالفت ہوئی ہے، مخرمہ بن بکیر نے اپنے والد سے بغیر "نسیئہ" (ادھار) کے ذکر کے اسے روایت کیا ہے (جیسا کہ نمبر 2314 پر آئے گا)، اور حضرت سعد کی حدیث میں یہی (بغیر ادھار والا لفظ) "محفوظ" (درست) ہے۔
وقد احتمل البيهقي احتمالًا أن يكونا حديثين، فقال في "معرفة السنن والآثار" (11132) عن رواية عمران بن أبي أنس: هذا يخالف رواية الجماعة في غير موضع، فإن كان محفوظًا فهو إذًا حديث آخر.
🧩 متابعات و شواہد: امام بیہقی نے ایک احتمال یہ دیا ہے کہ شاید یہ دو الگ الگ حدیثیں ہوں، لیکن اگر عمران بن ابی انس کی روایت محفوظ ہے تو اسے ایک الگ واقعہ سمجھا جائے گا۔
ثم استدرك فقال بإثر رواية مخرمة بن بكير: فالخبر يصرِّح بأن المنع إنما كان لنقصان الرطب في المتعقَّب وحصول الفضل بينهما بذلك، وهذا المعنى يمنع من أن يكون النهيُ لأجل النَّسيئة، فلذلك لم تُقبَل هذه الزيادة ممّن خالف الجماعةَ بروايتها في هذا الحديث.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: پھر امام بیہقی نے مخرمہ کی روایت کے بعد وضاحت کی کہ اصل ممانعت کھجور کے خشک ہونے پر وزن میں کمی (اور اس طرح ایک طرف زیادتی ہو جانے) کی وجہ سے تھی، یہ معنی اس بات کی نفی کرتا ہے کہ ممانعت کی وجہ ادھار تھی، اسی لیے ادھار والی زیادتی کو ثقہ راویوں کی جماعت کے خلاف ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کیا گیا۔
(1) قد أخرج الشيخان لنظير حال زيد أبي عياش هذا، فلا يصحُّ التعليل بذلك.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: بخاری اور مسلم (شیخین) نے زید ابو عیاش کی حال جیسی مثالوں سے استدلال کیا ہے، لہٰذا (ان کی شخصیت کی وجہ سے) حدیث کو معلول (کمزور) قرار دینا صحیح نہیں ہے۔