🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
55. ترفع للرجل صحيفة يوم القيامة ، حتى يرى أنه ناج فما تزال مظالم بني آدم تتبعه حتى ما تبقى له حسنة
قیامت کے دن آدمی کا نامۂ اعمال بلند کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ خود کو نجات یافتہ سمجھے گا، پھر بندوں کے حقوق اس کے پیچھے پڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اس کی کوئی نیکی باقی نہ رہے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2299
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا أبو بكر محمد بن إسحاق وأبو العباس محمد بن إسحاق وأبو يحيى زكريا بن يحيى البزَّاز، قالوا: حدثنا إسحاق بن منصور، حدثنا أبو داود، حدثنا شُعبة، عن خالد الحذّاء، قال: سمعت أبا عثمان النَّهْدي يحدِّث، أنَّ النبي ﷺ قال:"يُرفع للرجُلِ صحيفةٌ يومَ القيامة حتَّى يُرى أنه ناجٍ، فما تزالُ مظالمُ بني آدم تَتْبعُه حتى ما تبقى له حسنةٌ، ويُزادُ عليه مِن سيّئاتهم". قال: فقلتُ له - أو قال له عاصمٌ -: عمَّن يا أبا عثمان؟ قال: عن سلمانَ وسعدٍ وابن مسعود ورجلين آخرَين لم يحفظهما. قال شعبة: فسألت عاصمًا عن هذا الحديث، فحدَّثَنيهِ عن أبي عثمان عن سلمان. وأخبرني عثمان بن غِياثٍ: أنه سمع أبا عثمان يحدِّث بهذا عن سلمان وأصحابِ رسول الله ﷺ (1) .
هذا حديث غريبٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، ولا أعرفُ لشعبة عن عثمان بن غِياث حديثًا مسنَدًا غيرَ هذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2268 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن ایک آدمی کا نامۂ اعمال پیش کیا جائے گا (جس میں نیکیوں کی کثرت دیکھ کر) وہ یہ سمجھے گا کہ اب تو اس کی نجات ہو ہی جائے گی پھر مسلسل انسانوں پر کیے ہوئے اس کے ظلم، اس کی نیکیاں لیتے رہیں گے یہاں تک کہ اس کے پاس ایک نیکی بھی باقی نہیں بچے گی پھر اس کے اوپر وہ لوگ اپنے گناہ ڈالتے رہیں گے۔ (راوی) فرماتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا: کیا عاصم نے ابوعثمان رضی اللہ عنہ سے اس کی سند پوچھی؟ انہوں نے کہا: سلمان، سعد ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور مزید دو آدمیوں سے یہ روایت سنی ہے لیکن اس وقت ان کے نام یاد نہیں ہیں۔ ٭٭ شعبہ فرماتے ہیں: میں نے عاصم سے اس حدیث کی سند پوچھی: تو انہوں نے ابوعثمان رضی اللہ عنہ کے واسطے سے سلمان سے روایت بیان کی اور مجھے عثمان بن غیاث رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے ابوعثمان رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہوئے سنا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور میں نہیں جانتا کہ شعبہ نے عثمان بن غیاث رضی اللہ عنہ سے اس کے علاوہ اور کوئی مسند حدیث روایت کی ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2299]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2299 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، ولشعبة فيه ثلاثة شيوخ: خالد بن مِهران الحذّاء، وعاصم بن سليمان الأحول، وعثمان بن غياث، وسيأتي عند المصنف من طريق أبي داود أيضًا - وهو سليمان بن داود الطيالسي - برقم (8929)، وقد خولف شعبةُ في رفعه.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے، امام شعبہ کے اس میں تین شیوخ ہیں: خالد الحذاء، عاصم الاحول اور عثمان بن غیاث۔ یہ روایت آگے مصنف کے ہاں ابوداؤد الطیالسی کے طریق سے نمبر (8929) پر بھی آئے گی، تاہم شعبہ کے اس کے "مرفوع" (نبی ﷺ کا قول) بیان کرنے میں مخالفت کی گئی ہے۔
فقد رواه ابن المبارك في "الزهد" (1626)، ومعتمر بن سليمان فيما رواه عنه مُسدَّد في "مسنده" كما في "المطالب العالية" (4582)، كلاهما (ابن المبارك ومعتمر) عن خالد الحذاء، عن أبي عثمان النَّهدي، عن ابن مسعود وحذيفة وسَلْمان وغيرهم، موقوفًا عليهم.
⚠️ سندی اختلاف: ابن المبارک اور معتمر بن سلیمان نے اسے خالد الحذاء سے، انہوں نے ابوعثمان النہدی سے، اور انہوں نے ابن مسعود، حذیفہ اور سلمان رضی اللہ عنہم سے "موقوفاً" (صحابہ کا قول) روایت کیا ہے۔
ورواه موقوفًا أيضًا أبو أسامة حماد بن أسامة فيما رواه عنه ابن أبي شيبة في "مصنفه" 13/ 336 عن عثمان بن غياث، عن أبي عثمان النهدي، عن سلمان وغيره من أصحاب محمدٍ ﷺ قالوا … فذكره.
⚠️ سندی اختلاف: ابواسامہ حماد بن اسامہ نے بھی اسے عثمان بن غیاث سے، انہوں نے ابوعثمان النہدی سے، انہوں نے سلمان اور دیگر صحابہ سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
ورواه خالد بن حمزة العطار عن عثمان بن غياث عند البزار (2524)، والطبراني (6153)، من حديث سلمان وحده، ورفعه. وخالد هذا لا يُعرف.
🔍 علّت / فنی نکتہ: خالد بن حمزہ العطار نے اسے عثمان بن غیاث سے مرفوعاً (نبی ﷺ کی طرف منسوب) روایت کیا ہے، مگر یہ خالد نامی راوی "مجہول" (نا معلوم) ہے۔
والحديث وإن كان روي عند بعضهم من هذا الوجه موقوفًا، إلَّا أنَّ له حكم المرفوع، فإنَّ مثله لا يُقال من قِبَل الرأي، وممّا يبرهن على صحة ذلك وُرود شواهد بمعناه صريحة في الرفع كما سلف بيانه عند الحديث رقم (2252).
📌 اہم نکتہ: اگرچہ بعض کے ہاں یہ روایت موقوف ہے، مگر اسے "حکمِ مرفوع" حاصل ہے کیونکہ ایسی باتیں عقل و رائے سے نہیں کہی جا سکتیں، نیز اس کے صحیح ہونے کی دلیل وہ شواہد ہیں جو صراحتاً مرفوعاً مروی ہیں جیسا کہ نمبر (2252) پر گزرا۔