🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن الجلالة أن يؤكل لحمها ويشرب لبنها .
رسولُ اللہ ﷺ نے گندگی کھانے والے جانور کا گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2301
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارثُ بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن نافع، عن ابن عمر، عن رسول الله ﷺ: أنه نهى أن تُباعَ السلعُ حيث تُشتَرى، حتى يَحُوزَها الذي اشتراها إلى رَحْلِه، وإن كان ليَبعَثُ رجالًا فيضرِبونا على ذلك (2)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وعند محمد بن إسحاق فيه إسنادٌ آخر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2270 - على شرط مسلم
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، سودا خرید کر جب تک خریدار اپنے خیمے میں نہ لے جائے، اس وقت تک اس کو آگے بیچنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا: اگرچہ لوگ آ کر اس پر ہمارے ساتھ سودے بازی کرتے رہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور محمد بن اسحاق کی اس حدیث کے متعلق ایک دوسری اسناد موجود ہے (جو کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2301]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2301 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وقد صرَّح محمد بن إسحاق بسماعه عند أحمد فانتفت شبهة تدليسه، وقال في روايته: الأطعمة، بدل: السِّلَع، وهو الصحيح، كما سيأتي بيانه. وقد توبع محمد بن إسحاق.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حدیث "صحیح" ہے اور سند "حسن" ہے۔ محمد بن اسحاق نے سماع کی تصریح کر دی ہے جس سے ان کی تدلیس کا شبہ ختم ہو گیا۔ انہوں نے "السِّلَع" (سامان) کی جگہ "الأطعمة" (کھانا) کے الفاظ کہے ہیں جو کہ درست ہیں۔
وأخرجه أحمد 10/ (6191) من طريق إبراهيم بن سعد، عن ابن إسحاق، حدثني نافع، عن ¤ ¤ ابن عمر حدثهم: أنَّ رسول الله ﷺ كان يبعث عليهم إذا ابتاعوا الأطعمة من يمنعهم أن يتبايعوها حتَّى يؤووا إلى رِحالهم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (10/ 6191) نے ابن اسحاق عن نافع کی سند سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان لوگوں کے پاس (نگران) بھیجتے تھے جو غلہ خریدتے تھے تاکہ وہ اسے اپنے ٹھکانوں (گھروں) تک منتقل کرنے سے پہلے آگے نہ بیچیں۔
وأخرجه أحمد 1/ (395) و 10/ (5924)، ومسلم (1527) (33)، وأبو داود (3493)، والنسائي (6154) من طريق مالك بن أنس، وأحمد 8/ (4639)، والبخاري (2167)، ومسلم (1527) (34)، وأبو داود (3494)، وابن ماجه (2229)، والنسائي (6155)، وابن حبان (4986) من طريق عُبيد الله بن عمر، والبخاري (2123) من طريق موسى بن عقبة، و (2166) من طريق جويرية بن أسماء، والنسائي (6156) من طريق محمد بن عبد الرحمن بن عنج، كلهم عن نافع، عن ابن عمر بنحوه، لكن بلفظ "الطعام" عند جميعهم. وقد جاء في رواية موسى بن عقبة وجويرية وبعض الروايات عن عبيد الله بن عمر أنَّ هذا الحديث وارد في تلقي الركبان بأعلى السوق.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری (2167)، مسلم (1527)، ابوداؤد، ابن ماجہ، نسائی اور ابن حبان نے امام مالک، عبید اللہ بن عمر اور موسیٰ بن عقبہ کے مختلف طرق سے "طعام" (غلے) کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ بعض روایات کے مطابق یہ حکم بازار کے باہر قافلوں سے مل کر سودا کرنے (تلقّی رکبان) کے بارے میں ہے۔
وجاء في رواية جويرية وموسى بن عقبة ومحمد بن عبد الرحمن ما يفسر المراد بحيازة الطعام إلى الرَّحل، وهو نقله إلى حيث يباع الطعام، أي: إلى السوق.
📝 توضیح: موسیٰ بن عقبہ اور دیگر کی روایات سے واضح ہوتا ہے کہ غلے کو "رحل" (ٹھکانے) تک لانے کا مطلب اسے اس جگہ منتقل کرنا ہے جہاں غلہ بیچا جاتا ہے یعنی بازار کے اندر لانا۔
ووقع في بعض روايات عبيد الله بن عمر: طعامًا جِزافًا. فقُيِّد بالجزاف، وهو ما لم يكن مكيلًا ولا موزونًا. وهذا قيد مهمّ، فقد نصَّ ابن عبد البر في "التمهيد" 13/ 343 على الإجماع على أنَّ ما يُستوفى بالكيل أو الوزن أنه يجوز بيعُه في موضعه.
⚖️ فقہی نکتہ: عبید اللہ بن عمر کی روایت میں "طعاماً جزافاً" (اندازے سے خریدا ہوا غلہ) کی قید ہے، یعنی وہ جو ناپا یا تولا نہ گیا ہو۔ ابن عبدالبر کے مطابق اس پر اجماع ہے کہ جو چیز ناپ تول کر خریدی جائے اسے اسی جگہ (قبضے کے بعد) بیچنا جائز ہے۔
وأخرجه بنحوه أيضًا أحمد 8/ (4517)، والبخاري (2131)، ومسلم (1527) (37) و (38)، وأبو داود (3498)، والنسائي (6157) من طريق سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، بلفظ "الطعام"، ومقيدًا بالجزاف كذلك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری، مسلم اور نسائی نے سالم بن عبد اللہ کی سند سے بھی "طعام" اور "جزاف" (بغیر ناپ تول) کی قید کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وكأنَّ حديث ابن عمر هذا قد ورد في نقل وتحويل الطعام الذي اشتُري من الركبان بأعلى السوق، حتى يُنتهى به إلى داخل السوق، لكي يُتمكن من بيعه بالكيل أو بالوزن.
📌 اہم نکتہ: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابن عمر کی یہ حدیث اس غلے کے بارے میں ہے جو بازار کے باہر سے خریدا گیا ہو، اسے پہلے بازار کے اندر لایا جائے تاکہ اسے ناپ تول کر بیچا جا سکے۔
وإذا ثبت ذلك لم يكن هذا الحديث بعينه دالًا على عموم النهي عن بيع المبيع قبل قبضه واستيفائه.
⚖️ فقہی نکتہ: اگر یہ ثابت ہو جائے تو یہ خاص حدیث "ہر خریدی ہوئی چیز کو قبضے سے پہلے بیچنے" کی عمومی ممانعت پر دلیل نہیں بنے گی۔
لكن قد ثبت عن نافع عن ابن عمر، مرفوعًا: "من ابتاع طعامًا فلا يبعه حتى يستوفيه"، وفي رواية: "حتى يقبضه"، فهذا هو الذي يصلح حجة في النهي عن بيع المبيع قبل قبضه، لأنَّ الاستيفاء هو القبض، وهو عامٌّ في الطعام الجزاف وغيره، وفي ما تُلُقّي من أعلى السوق من الركبان وما اشتُري من داخل السُّوق. وقد ثبت عن عدد من الصحابة غير ابن عمر النهي عن بيع المبيع قبل قبضه.
⚖️ فقہی نکتہ: تاہم نافع عن ابن عمر سے مرفوعاً ثابت ہے: "جس نے غلہ خریدا وہ اسے پورا وصول (استیفاء) کرنے سے پہلے نہ بیچے"، ایک روایت میں "قبضہ کرنے" کے الفاظ ہیں۔ یہی روایت قبضے سے پہلے بیع کی ممانعت پر اصل حجت ہے کیونکہ یہ عام ہے، چاہے غلہ اندازے سے ہو یا ناپ تول کر، بازار سے ہو یا باہر سے۔
وقد أخرجه بهذا اللفظ أحمد 1/ (396) و 9/ (539)، والبخاري (2126) و (2136)، ومسلم (1526)، وأبو داود (3492)، وابن ماجه (2226)، والنسائي (6143) من طريق مالك بن أنس، ¤ ¤ وأحمد 8/ (4736)، ومسلم (1527) (34)، وابن حبان (4986) من طريق عبيد الله بن عمر، والبخاري (2124) من طريق موسى بن عقبة، ومسلم (1527) (35) من طريق عمر بن محمد، كلهم عن نافع، عن ابن عمر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، ابن ماجہ اور نسائی نے امام مالک، عبید اللہ بن عمر اور موسیٰ بن عقبہ کے طرق سے نافع عن ابن عمر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بهذا اللفظ أيضًا أحمد 9/ (5064)، والبخاري (2133)، ومسلم (1527) (36)، والنسائي (6144)، وابن حبان (4981) من طريق عبد الله بن دينار، وأحمد 10/ (5900)، وأبو داود (3495)، والنسائي (6153) من طريق القاسم بن محمد، وابن حبان (4979) من طريق عمرو بن دينار، ثلاثتهم عن ابن عمر. لكن زاد القاسم في روايته: "طعامًا اشتراه بكيل" وعند أحمد زيادة: "أو وزن".
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری، مسلم اور نسائی نے عبد اللہ بن دینار کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔ قاسم بن محمد کی روایت میں "ناپ کر خریدا ہوا غلہ" اور احمد کی روایت میں "تول کر" کے الفاظ کا اضافہ ہے۔
وقال الطحاوي في "شرح مشكل الآثار" بإثر (3166): هذا المروي عن عبد الله بن عمر عن رسول الله ﷺ نهيه عن بيع الطعام حتى يستوفى، وعنه عن رسول الله ﷺ نهيه عن ابتياع الجِزاف من الطعام أن يباع حتى ينقل إلى مكان آخر، فكان ذلك حكم بيع الطعام المشتَرى كيلًا، وحكم بيع الطعام المشترى جزافًا.
📌 اہم نکتہ: امام طحاوی فرماتے ہیں کہ ابن عمر سے مروی روایات میں ناپ تول والے غلے کے لیے "وصول کرنے" (استیفاء) کی شرط ہے، جبکہ اندازے والے غلے (جزاف) کے لیے اسے دوسری جگہ "منتقل کرنے" کی شرط ہے۔
قلنا: وكل ذلك عن ابن عمر بلفظ: "الطعام"، وبذلك يندفع الإشكال الذي يتبادر إلى الذهن عند النظر في حديث عُبيد بن حنين الآتي بعده عن ابن عمر، كما سيأتي بيانه.
📝 توضیح: ابن عمر کی ان تمام روایات میں "طعام" (غلہ/کھانا) کا لفظ ہے، جس سے وہ اشکال دور ہو جاتا ہے جو اگلی حدیث (عبید بن حنین والی) کو دیکھ کر ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے۔