المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
56. نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن الجلالة أن يؤكل لحمها ويشرب لبنها .
رسولُ اللہ ﷺ نے گندگی کھانے والے جانور کا گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 2300
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنان القَزّاز، حدثنا أبو علي عبيد الله بن عبد المجيد الحَنَفي، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم بن مهاجِر، سمعتُ أبي يحدِّث عن عبد الله بن باباهُ، عن عبد الله بن عمرو، قال: نهى رسولُ الله ﷺ عن الجَلّالة أن يُؤكل لحمُها، ويُشربَ لبنُها، ولا يُحمَلَ عليها الأَدَمُ، ولا يَركَبَها الناسُ، حتَّى تُعلَفَ أربعين ليلةً (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، لما قَدَّمنا من القول في إبراهيم بن المُهاجِر (1) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2269 - إسماعيل بن إبراهيم بن مهاجر وأبوه ضعيفان
هذا حديث صحيح الإسناد، لما قَدَّمنا من القول في إبراهيم بن المُهاجِر (1) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2269 - إسماعيل بن إبراهيم بن مهاجر وأبوه ضعيفان
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلالہ کا گوشت کھانے، اس کا دودھ پینے، اس پر چمڑا (یا کوئی دوسرا بوجھ) لادنے اور اس پر سواری کرنے سے منع کیا ہے یہاں تک کہ اس کو چالیس دن تک (صاف ستھرا) چارا کھلایا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے جیسا کہ اس سے پہلے بھی ابراہیم بن مہاجر کے متعلق ہماری گفتگو گزری ہے۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2300]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2300 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف بهذه السياقة من أجل إسماعيل بن إبراهيم بن مهاجِر، فهو ضعيف، وأبوه ليِّن الحديث، وقد صحَّ من غير هذا الوجه عن عبد الله بن عمرو ذكر النهي من ركوب الجلّالة وأكل لحمها، دون ما سوى ذلك ممّا ورد في هذه الرواية. ¤ ¤ على أنه قد صحَّ ذكر النهي عن لبن الجلّالة من غير حديث عبد الله بن عمرو، كما بيناه عند حديث ابن عباس المتقدم برقم (2278).
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس سیاق کے ساتھ سند اسماعیل بن ابراہیم کی وجہ سے "ضعیف" ہے کیونکہ وہ اور ان کے والد دونوں کمزور راوی ہیں۔ تاہم عبد اللہ بن عمرو سے جلالہ (گندگی کھانے والے جانور) کی سواری اور گوشت کی ممانعت دیگر صحیح طرق سے ثابت ہے، سوائے ان باتوں کے جو صرف اسی روایت میں آئی ہیں۔ 🥛 توضیح: جلالہ کے دودھ کی ممانعت ابن عباس کی حدیث (نمبر 2278) سے صحیح ثابت ہے۔
وأخرجه أحمد 11/ (7039) عن مؤمَّل بن إسماعيل، وأبو داود (3811)، والنسائي (4522) من طريق سهل بن بكّار، كلاهما عن وهيب بن خالد، عن عبد الله بن طاووس، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: نهى رسول الله ﷺ يوم خيبر عن لحوم الحمر الأهلية، وعن الجلّالة: عن ركوبها وأكل لحمها. وإسناده حسن كما قال الحافظ في "الفتح" 17/ 101. قلنا: ووقع عند بعض من خرَّج الحديث من هذه الطريق كأحمد والنسائي: عن الجَلّالة وعن ركوبها وأكل لحومها. بعطف الركوب على مطلق النهي عن الجلالة، والصحيح أنه على البدل، لا معطوفًا، كما وقع في رواية أبي داود، وكذلك جاء في "جامع الأصول" و"تحفة الأشراف"، وكذلك جاء في الرواية التي اعتمدها المزي من "سنن النسائي" كما في "تهذيب الكمال" 25/ 515. والظاهر أنَّ العطف من صنيع بعض الرواة، وإن كان محفوظًا فيكون ذكر الركوب واللحوم من عطفٌ الخاصّ على العامّ، والله تعالى أعلم.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اسے امام احمد، ابوداؤد اور نسائی نے وہیب بن خالد عن عمرو بن شعیب کی سند سے روایت کیا ہے اور حافظ ابن حجر نے اسے "حسن" قرار دیا ہے۔ 📝 توضیح: بعض روایات میں "رکوب" (سواری) کا ذکر الگ سے ہے، مگر صحیح یہ ہے کہ یہ جلالہ کی ممانعت ہی کی وضاحت (بدل) ہے، جیسا کہ ابوداؤد اور تہذیب الکمال کی روایات سے واضح ہوتا ہے۔
وقد صحَّ عن عبد الله بن عمر بن الخطاب موقوفًا عليه في التوقيت لزوال كراهة الجلّالة خلاف ما روي هنا، فقد أخرج ابن أبي شيبة 8/ 335 بسند صحيح عنه: أنه كان يحبس الدجاجة الجلالة ثلاثًا.
📌 اہم نکتہ: عبد اللہ بن عمر سے موقوفاً صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے کہ جلالہ کی کراہت ختم کرنے کے لیے وہ "گندگی کھانے والی مرغی" کو تین دن تک (صاف چارہ کھلا کر) قید رکھتے تھے۔
(1) هذا ذهولٌ من المصنف ﵀، فإنه لم يتقدم له كلام فيه.
⚠️ توجہ طلب: یہ مصنف (امام حاکم) کی بھول (ذہول) ہے، کیونکہ اس سے پہلے انہوں نے اس بارے میں کوئی کلام نہیں کیا۔