🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
67. أد الأمانة إلى من ائتمنك ، ولا تخن من خانك
جس نے تمہیں امانت دی ہو اسے امانت ادا کرو اور جو تم سے خیانت کرے تم اس سے خیانت نہ کرو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2327
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا طَلْق بن غَنّام، حدثنا شَريك وقيس، عن أبي حَصِين، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"أدِّ الأمانةَ إلى من ائتَمَنَك، ولا تخُنْ من خانَكَ" (2) . قال العباس: قلت لطَلْق: أكتُبُ شَريك وأَدَعُ قيس؟ قال: أنت أبصَرُ. حديثُ شريك عن أبي حَصِين صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ عن أنس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2296 - على شرط مسلم وشاهده
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو تجھے امانت دے، اس کی امانت اس کے سپرد کرو اور جو تم سے خیانت کرے تم اس سے خیانت مت کرو۔ ٭٭ عباس فرماتے ہیں: میں نے طلق سے کہا کہ میں شریک کا نام لکھتا ہوں اور قیس کو چھوڑ دیتا ہوں (یہ عمل کیسا ہے؟) انہوں نے جواب دیا: آپ شریک کی حدیث کو زیادہ سمجھتے ہیں۔ ابوحصین سے روایت کردہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2327]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2327 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن، وقد اتفق على روايته شريك - وهو ابن عبد الله النخعي - وقيس - وهو ابن الربيع الأسدي - عن أبي حَصِين - وهو عثمان بن عاصم الأسدي - وفي ذلك ما يُشعر بأنهما ضبطاه، على أنَّ له شواهدَ أيضًا ذكرناها في تخريجنا لأبي داود.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔ شریک اور قیس دونوں کا اسے ابوحصین سے روایت کرنا ان کے ضبط پر دلالت کرتا ہے، مزید یہ کہ اس کے شواہد ابوداؤد کی ہماری تخریج میں مذکور ہیں۔
وأخرجه أبو داود (3535)، والترمذي (1264) عن أبي كريب محمد بن العلاء، عن طَلْق بن غنام، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (3535) اور ترمذی (1264) نے ابوکریب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (3535) عن أحمد بن إبراهيم الدَّورقي، عن طَلْقٍ، عن شريك وحده، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (3535) نے احمد بن ابراہیم الدورقی کے طریق سے صرف شریک سے روایت کیا ہے۔