المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
70. الآخذ والمعطي سواء فى الربا
سود میں لینے والا اور دینے والا دونوں برابر کے گناہگار ہیں۔
حدیث نمبر: 2339
أخبرني أبو محمد عبد العزيز بن عبد الرحمن الدبّاس بمكة، حدثنا محمد بن علي بن زيد (2) الصائغ، حدثنا إبراهيم بن محمد بن العباس الشافعي، قال: سمعت أبي يحدث عن عُمر بن محمد بن زيد، عن أبيه، عن جده، عن علي بن أبي طالب، قال: قال النبي ﷺ:"الدِّينارُ بالدِّينارِ، والدِّرهمُ بالدِّرهم، لا فَضْلَ بينهما، فمن كانت له حاجةٌ بوَرِقٍ فليَصرِفها بذَهَبٍ، ومن كانت له حاجةٌ بذَهَبٍ فليَصرفِها بِوَرِقٍ، والصَّرْفُ هاءَ وهاءَ" (3) .
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2308 - صحيح غريب
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2308 - صحيح غريب
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دینار کو دینار کے بدلے اور درہم کو درہم کے بدلے (بیچتے ہوئے) کمی زیادتی نہ کی جائے، جس کو چاندی کی ضرورت ہو تو وہ درہموں کی چاندی کے بدلے بیع صرف کر لیں اور جس کو سونے کی ضرورت ہو وہ چاندی کے بدلے اس کی بیع صرف کر لے اور بیع صرف ہاتھوں ہاتھ ہوا کرتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث غریب صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ان الفاظ کے ہمراہ اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2339]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2339 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في (ز) و (ص) و (ع) إلى: يزيد، والتصويب من (ب). وانظر ترجمته في "سير أعلام النبلاء" 13/ 428.
🔍 فنی نکتہ: بعض نسخوں میں نام "یزید" ہو گیا ہے، درست نام "برید" ہے (سیر اعلام النبلاء 13/ 428)۔
(3) إسناده ضعيف لجهالة محمد بن العباس الشافعي، وقد اضطرب في إسناد هذا الحديث، فمرة يرويه عن عمر بن محمد بن زيد، كما وقع هنا، ومرة يرويه عن عمر بن محمد لم يقيده ¤ ¤ بابن زيد، عن أبيه، عن جده، عن علي بن أبي طالب، ومرة يرويه عن عمر بن محمد بن علي بن أبي طالب، عن أبيه، عن جده علي، ومرة يرويه عن أبيه العباس بن عثمان بن شافع، عن عمر بن محمد بن علي، عن أبيه، عن جده علي، ويغلب على ظننا أنَّ الصحيح فيه ذكر عمر بن محمد بن علي بن أبي طالب كما جاء في غير رواية المصنف، وليس هو بابن زيد كما قُيد هنا عند المصنف، لأنه يترتب عليه أنه ابن زيد بن عبد الله بن عمر بن الخطاب، وهو رجل ثقة، وإذا ثبت ذلك فعمر بن محمد بن علي بن أبي طالب مجهول أيضًا، وإذا صحَّ الإسناد ذكر العباس بن محمد بن شافع فهو مجهول كذلك، فيصير في الإسناد ثلاثة مجاهيل، والله تعالى أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند "ضعیف" ہے کیونکہ محمد بن العباس الشافعی مجہول ہے اور اس نے سند میں سخت اضطراب کیا ہے۔ کبھی اسے عمر بن محمد بن زید سے، کبھی علی بن ابی طالب سے اور کبھی اپنے والد سے روایت کرتا ہے۔ اس سند میں تین راوی مجہول ہو جاتے ہیں۔
وأخرجه الدارقطني (2880) من طريق علي بن حرب الطائي، عن إبراهيم بن محمد بن العباس، بهذا الإسناد. لكن لم يقيد عمر بن محمد بابن زيد، بل أطلقه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (2880) نے ابراہیم بن محمد کے طریق سے روایت کیا ہے مگر وہاں عمر بن محمد کو "ابن زید" کے طور پر مقید نہیں کیا۔
وأخرجه الطبري في مسند عمر من "تهذيب الآثار" 2/ 736 و 743 عن أحمد بن الوليد الأُمّي الرملي، عن إبراهيم بن محمد بن العباس، عن أبيه، عن عمر بن محمد بن علي بن أبي طالب، عن أبيه، عن جده علي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبری نے "تہذیب الآثار" (2/ 736) میں ابراہیم بن محمد عن ابیہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2261) عن إبراهيم بن محمد بن العباس، عن أبيه، عن جده العباس بن عثمان بن شافع، عن عمر بن محمد بن علي بن أبي طالب، عن أبيه، عن جده.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2261) نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔
ويغني عنه حديث عمر بن الخطاب عند أحمد 1/ (162)، والبخاري (2174)، ومسلم (1586) قال: قال رسول الله ﷺ: "الذهب بالوَرِق ربًا، إلّا هاء وهاء".
🧩 شواہد: اس ضعیف سند کی جگہ حضرت عمر کی صحیح حدیث (بخاری 2174، مسلم 1586) کافی ہے کہ: "سونے کا چاندی کے بدلے تبادلہ سود ہے سوائے اس کے کہ ہاتھوں ہاتھ (نقدی) ہو"۔
وحديث عبادة بن الصامت عند أحمد 37/ (22727)، ومسلم (1587) قال: قال رسول الله ﷺ: "الذهب بالذهب، والفضة بالفضة، والبُرُّ بالبُرّ، والشعير بالشعير، والتمر بالتمر، والملح بالملح، مِثلًا بمِثل، سواء بسواء، يدًا بيد، فإذا اختلفت هذه الأصناف فبيعوا كيف شئتم إذا كان يدًا بيد".
🧩 شواہد: عبادہ بن صامت کی صحیح حدیث (مسلم 1587) بھی موجود ہے جس میں سونا، چاندی، گندم، جو، کھجور اور نمک کے تبادلے کے اصول (برابری اور نقدی) بیان ہوئے ہیں۔
وحديث البراء بن عازب وزيد بن أرقم عند أحمد 30/ (18541)، والبخاري (2180)، ومسلم (1889): نهى رسول الله ﷺ عن بيع الوَرقِ بالذهب دَينًا.
🧩 شواہد: براء بن عازب اور زید بن ارقم (بخاری 2180) کی حدیث میں سونے چاندی کا ادھار تبادلہ کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔
قوله: "هاء وهاء" قال الخطابي في "معالم السنن" 3/ 67 - 68: معناه التقابض، وهو قول الرجل لصاحبه إذا ناوله الشيء: هاك، أي: خذ، فأسقطوا الكاف منه وعوَّضوه المد بدلًا من الكاف، يقال للواحد: هاء، والاثنين: هاؤما، وللجماعة: هاؤم.
📝 لغوی تشریح: "ھاء و ھاء" کا مطلب ہے "تقابض" (ہاتھوں ہاتھ سودا کرنا)۔ امام خطابی فرماتے ہیں اس کا مطلب ہے: "یہ لو اور وہ دو"۔