🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. المسلمون على شروطهم والصلح جائز
مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں اور صلح جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2340
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني سليمان بن بلال، عن كثير بن زيد، عن الوليد بن رَبَاح، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"المسلمون على شُروطِهم، والصلحُ جائزٌ بين المسلمين" (1) . رواة هذا الحديث مدنيُّون، ولم يُخرجاه، وهذا أصلٌ في الكتاب. وله شاهدٌ من حديث عائشة وأنس بن مالك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2309 - لم يصححه وكثير ضعفه النسائي ومشاه غيره
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان اپنی شرطوں پر (قائم رہتے) ہیں اور مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے۔ ٭٭ اس حدیث کے تمام راوی مدنی ہیں لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا اور یہ کتاب میں اصل ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2340]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2340 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل كثير بن زيد - وهو الأسلمي - والوليد بن رباح.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر صحیح ہے، اور کثیر بن زید اور ولید بن رباح کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أبو داود (3594) عن سليمان بن داود المَهْري، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (3594) نے سلیمان بن داود المہری کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 14/ (8784) عن منصور بن سلمة الخُزاعي، وأبو داود (3594)، وابن حبان (5091) من طريق مروان بن محمد الطاطري، كلاهما عن سليمان بن بلال، به. لكن وقع في رواية أبي داود شك، قال: حدثنا سليمان بن بلال أو عبد العزيز بن محمد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (14/ 8784) اور ابن حبان (5091) نے سلیمان بن بلال کے طریق سے روایت کیا ہے۔
واقتصر أحمد وابن حبان في روايتهما على قوله: "الصلح جائز بين المسلمين" زاد أبو داود وابن حبان: "إلّا صلحًا أحلَّ حرامًا أو حَرَّم حلالًا".
🧾 تفصیلِ روایت: احمد اور ابن حبان کی روایت صرف "مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے" تک ہے، جبکہ ابوداؤد میں یہ اضافہ ہے: "مگر وہ صلح جو حرام کو حلال یا حلال کو حرام کر دے (وہ جائز نہیں)"۔
وسيأتي الشطر الثاني منه من طريق آخر عن أبي هريرة برقم (2344).
🧾 تفصیلِ روایت: اس حدیث کا دوسرا حصہ (شرائط والا) نمبر (2344) پر آئے گا۔
ويشهد له بشطريه حديث كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني، عن أبيه، عن جده، فيما سيأتي عند المصنف برقم (7236)، وهو عند ابن ماجه (2353)، والترمذي (1352)، وقال الترمذي: حديث حسن صحيح. قلنا: ذلك لأنه حسّن الرأي في كثير المزني تبعًا لشيخه البخاري، والجمهور على تضعيفه، وأعدل الأقوال فيه أنه يصلح للاعتبار في المتابعات والشواهد.
🧩 متابعات و شواہد: کثیر بن عبداللہ المزنی (ترمذی 1352) کی روایت بھی اس کی شاہد ہے، اگرچہ جمہور نے کثیر کو ضعیف کہا ہے مگر متابعت اور شواہد میں ان کی روایت قابل قبول ہے۔
ويشهد لشطره الأول قول عمر بن الخطاب موقوفًا عليه: المسلمون على شروطهم عند مقاطع حقوقهم، أخرجه ابن أبي شيبة 6/ 570، وسعيد بن منصور (662)، وابن المنذر في "الأوسط" (7286)، وابن حزم في "المحلى" 9/ 517، والبيهقي 7/ 249، وإسناده صحيح، واللفظ لابن المنذر وابن حزم.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت عمر کا قول (ابن ابی شیبہ 6/ 570) اس کے پہلے حصے کا شاہد ہے کہ: "مسلمان اپنی شرائط پر قائم رہتے ہیں جہاں حقوق کا فیصلہ ہو"۔ اس کی سند صحیح ہے۔
ولشطره الثاني قول عمر بن الخطاب أيضًا في رسالته إلى أبي موسى الأشعري في صفة القضاء، عند وكيع محمد بن خلف في "أخبار القضاة" 1/ 70 - 73 و 284، والدارقطني (4472)، والبيهقي 6/ 65، ورجاله ثقات.
🧩 متابعات و شواہد: دوسرے حصے کا شاہد حضرت عمر کا وہ خط ہے جو انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کو لکھا تھا، جس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
قال الخطّابي في "المعالم" 4/ 166: الصلح يجري مجرى المعاوضات، ولذلك لا يجوز إلّا فيما أوجب المال، ولا يجوز في دعوى القذف، ولا دعوى الزوجية، ولا على مجهول، ولا أن يصالحه على دَين له على مال نسيه لأنه من باب الكالئ بالكالئ، ولا يجوز الصلح في قول مالك على الإقرار، ولا يجوز في قول الشافعي على الإنكار، وجوّزه أصحاب الرأي على الإقرار والإنكار جميعًا. ¤ ¤ ونوع آخر من الصلح، وهو أن يصالحه في مالٍ على بعضه نقدًا، وهذا من باب الحط والإبراء وإن كان يُدعى صلحًا.
📚 فقہی اصول: امام خطابیؒ فرماتے ہیں کہ صلح مالی معاملات کے بدلے (معاوضہ) کی طرح ہے، لہذا یہ قذف (تہمت) یا ازدواجی حقوق یا نامعلوم چیز پر جائز نہیں۔ امام مالک کے نزدیک اقرار پر صلح جائز ہے، شافعی کے نزدیک انکار پر نہیں، جبکہ احناف (اصحاب الرائے) کے نزدیک اقرار اور انکار دونوں صورتوں میں صلح جائز ہے۔
وقوله: "المسلمون على شروطهم" فهذا في الشروط الجائزة في حق الدِّين، دون الشروط الفاسدة، وهذا من باب ما أمر الله تعالى من الوفاء بالعقود.
📚 فقہی اصول: حدیث "مسلمون علی شروطہم" سے مراد دین میں جائز شرائط ہیں، فاسد شرائط نہیں۔ یہ اللہ کے اس حکم کے تحت ہے جس میں "عہد کی وفاء" کا حکم دیا گیا ہے۔