🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
74. لا يغلق الرهن له غنمه وعليه غرمه
گروی رکھی ہوئی چیز بند نہیں ہوتی، اس کا نفع مالک کا ہے اور اس کا نقصان بھی اسی پر ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2349
أخبرَناه أبو علي الحافظ، حدثنا محمد بن إبراهيم الرازي، حدثنا عبد الله بن نصر الأصم، حدثنا شَبَابة، حدثنا ابن أبي ذِئب، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب وأبي سلمة، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يَغْلَقُ الرهنُ، الرهنُ لمن رَهَنه، له غُنْمُه، وعليه غُرْمُه" (1) . وأما حديث سليمان بن أبي داود:
سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: رہن کو بند نہیں کیا جائے گا۔ رہن اسی شخص کی ملکیت ہے جس نے اُسے رہن رکھوایا ہے اور اس کا تاوان بھی اُسی شخص کے ذمے ہو گا۔ ٭٭ سلیمان بن ابی داؤد کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2349]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2349 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا، محمد بن إبراهيم الرازي يغلب على ظنّنا أنه ابن زياد الطيالسي، فقد روى عنه غير واحد من شيوخ الحاكم، وهو متروك الحديث واتهمه الدارقطني والخطيب بوضع الحديث وسرقته، وقال أبو أحمد الحاكم: حدَّث عن ناس لم يدركهم. قلنا: وهذا هو الظاهر هنا، فقد روى هذا الحديث قاسم بن أصبغ عند ابن حزم في "المحلى" 8/ 99 وابن عبد البر في "التمهيد" 6/ 430 عنه، فأدخل بينه وبين عبد الله بن نصر الأصم واسطةً فقال: حدثنا محمد بن إبراهيم، قال: حدثني يحيى بن أبي طالب الأنطاكي (والصواب يحيى بن طالب) وجماعة من أهل الثقة، قالوا: حدثنا عبد الله بن نصر الأصم الأنطاكي. ويحيى بن طالب المذكور له ترجمة في "تاريخ دمشق"، روى عنه جمع، ولم يؤثر فيه جرح ولا تعديل.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند انتہائی ضعیف ہے۔ محمد بن ابراہیم رازی غالباً ابن زیاد طیالسی ہے جو کہ "متروک" ہے، دارقطنی اور خطیب نے اسے وضعِ حدیث (حدیث گھڑنے) اور چوری کا متہم قرار دیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: قاسم بن اصبغ کی روایت میں یحییٰ بن طالب انطاکی کا واسطہ موجود ہے جن پر کوئی جرح یا تعدیل مروی نہیں ہے۔
وقد تابعه في روايته عن عبد الله بن نصر الأنطاكي: عبد العزيز بن سليمان والفضلُ بن سليمان الأنطاكيان عند ابن عدي في "الكامل" 4/ 230، وهما في عداد المجاهيل، على أنَّ ابن عدي قد ترجم لرجل سماه الفضل بن محمد بن عبد الله بن الحارث بن سليمان الباهلي الأنطاكي، وقال: أحد ¤ ¤ من كتبنا عنه بأنطاكية واتهمه بسرقة الحديث، فلعله يكون هو الثاني.
🔍 فنی نکتہ / علّت: عبدالعزیز اور فضل بن سلیمان انطاکی کی متابعت موجود ہے مگر یہ دونوں مجہول ہیں، بلکہ ابن عدی نے فضل نامی ایک راوی کو حدیث چوری کرنے کا متہم بھی قرار دیا ہے۔
وعبد الله بن نصر الأنطاكي المذكور أنكر له ابن عدي عدة أحاديث، منها هذا الحديث، وقال عنه أبو عبد الهادي في "التنقيح" 4/ 19: ليس بذلك المعتمد، ونحوه قول الذهبي في "التنقيح" 2/ 107، وقال عنه في "المغني": منكر الحديث. قلنا: ومن وجوه نكارة حديثه أنه قرن في روايته هذه بسعيد بن المسيب أبا سلمة بن عبد الرحمن، وهذا لا يُعرف إلّا من روايته كما نبَّه عليه ابن عدي في "الكامل"، على أنه لم يرو هذا الحديثَ عن شبابة - وهو ابن سوّار - غيره، ثم إنَّ المحفوظ في رواية ابن أبي ذئب إرسال الحديثَ كما بيناه سابقًا.
⚠️ نوٹ / توضیح: عبداللہ بن نصر انطاکی کی یہ روایت منکر ہے، ابن عدی، ابوعبدالہادی اور امام ذہبی نے انہیں "منکر الحدیث" اور غیر معتمد قرار دیا ہے۔ انہوں نے سعید بن مسیب کے ساتھ ابوسلمہ کا ذکر کر کے نکارت پیدا کی ہے، جبکہ ابن ابی ذئب کی محفوظ روایت مرسل ہی ہے۔