🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
75. إذا كانت الهبة لذي رحم محرم لم يرجع فيها
قریبی محرم رشتہ دار کو دی گئی ہبہ واپس نہیں لیا جاتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2356
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الجَوهَري ببغداد، حدثنا عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدَّوْرَقي، حدثنا عبد العزيز بن يحيى المَديني، حدثنا مسلم بن خالد الزَّنْجي، عن محمد بن علي بن يزيد بن رُكَانة، عن داود بن الحُصَين، عن عِكرمة، عن ابن عباس قال: لما أرادَ رسولُ الله ﷺ أن يُخرِج بني النَّضِير، قالوا: يا رسول الله، إنك أمرتَ بإخراجِنا ولنا على الناس ديونٌ لم تَحِلَّ، قال:"ضَعُوا وتَعَجّلُوا" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2325 - الزنجي ضعيف وعبد العزيز ليس بثقة
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر قبیلہ کو نکالنے کا فیصلہ کیا تو وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ہمیں نکالنے کا فیصلہ کر دیا جبکہ ہمارا بہت سارا قرضہ لوگوں کے ذمہ باقی ہے جس کی ابھی تاریخ نہیں آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو چھوڑ سکتے ہو) چھوڑ دو اور (جو نہیں چھوڑ سکتے) وہ جلدی وصول کر لو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2356]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2356 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا، عبد العزيز بن يحيى المديني متروك الحديث، واتهمه البخاري بوضع الحديث، وابن عَدي بسرقته، ولكنه لم ينفرد به فقد روي من غير طريقه عن مسلم بن خالد ¤ ¤ الزّنْجي، ومسلم الزّنْجي ضعيف الحديث، وقد اضطرب في إسناد الحديث كما قال الدارقطني في "سننه" بإثر (2983).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند انتہائی ضعیف ہے۔ عبدالعزیز بن یحییٰ مدینی "متروک" ہے، امام بخاری نے اسے حدیث گھڑنے (وضع) اور ابن عدی نے چوری کا متہم قرار دیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مسلم بن خالد زنجی بھی ضعیف الحدیث ہیں اور انہوں نے اس حدیث کی سند میں اضطراب کیا ہے جیسا کہ دارقطنی نے اشارہ کیا ہے۔
وقد خالفه ابنُ جُرَيج فرواه عن محمد بن علي بن يزيد بن ركانة عن محمد بن عمر بن علي مرسلًا، ورواه ابن جُرَيج أيضًا عن محمد بن علي بن يزيد بن ركانة عن داود بن الحصين عن ابن الأشهل عن النبي ﷺ، وذكر أبو حاتم كما في "العلل" لابنه (1134) أنَّ ابن جُرَيج رواه أيضًا عن ابن رُكانة عن عكرمة مرسلًا، لكننا لم نقف عليه من هذه الطريق عند غيره، وعليه يكون محمد بن علي بن يزيد بن ركانة قد اضطرب فيه أيضًا، وابن ركانة هذا لم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، وتساهل ابنُ القيم في تحسينه إسناد هذا الحديث في "أحكام أهل الذمة" 3/ 187.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن جریج نے اس میں مخالفت کرتے ہوئے اسے مرسل روایت کیا ہے۔ اس کے راوی محمد بن علی بن یزید بن رکانہ (ابن رکانہ) کو ابن حبان کے علاوہ کسی نے ثقہ نہیں کہا، ابن قیم نے "احکام اہل الذمہ" (3/ 187) میں اس کی تحسین میں تساہل سے کام لیا ہے۔
وأخرجه البيهقي 6/ 28 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی (6/ 28) نے حاکم کی سند سے اسی طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدارقطني (2983) عن محمد بن عبيد الله بن محمد بن العلاء، عن عبد الله بن أحمد الدَّورقي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (2983) نے دورقی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (4277)، والطبراني في "الأوسط" (6755) من طريقين عن هشام بن عمار، والبيهقي 6/ 28 من طريق الحكم بن موسى، كلاهما عن مسلم بن خالد الزنجي، به. غير أنه في رواية الطبراني سمَّى ابنَ رُكانة عليَّ بن يزيد بن ركانة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طحاوی (4277)، طبرانی (6755) اور بیہقی (6/ 28) نے ہشام بن عمار اور حکم بن موسیٰ کے طریق سے مسلم بن خالد زنجی سے روایت کیا ہے۔ طبرانی کی روایت میں ابن رکانہ کا نام علی بن یزید مذکور ہے۔
وأخرجه العُقيلي في "الضعفاء" (1212)، والطبراني في "الأوسط" (817)، والدارقطني (2980) و (2981) من طريق عُبيد الله بن عمر القواريري، عن مسلم بن خالد الزنجي، عن علي بن محمد - وعند العُقيلي: علي بن أبي محمد - عن عكرمة، عن ابن عباس، فأسقط من إسناده داودَ بنَ الحُصين، وقلب اسمَ ابنِ رُكانة إلى علي بن محمد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: عقیلی، طبرانی اور دارقطنی نے عبیداللہ بن عمر قواريري کے طریق سے اسے روایت کیا ہے جس میں داؤد بن حصین کا واسطہ ساقط ہے اور ابن رکانہ کا نام قلب (تبدیل) ہو کر علی بن محمد ہو گیا ہے۔
وأخرجه الدارقطني (2982) من طريق عفيف بن سالم، عن مسلم بن خالد، عن داود بن الحصين به. فأسقط من إسناده ابن ركانة.
📖 حوالہ / مصدر: دارقطنی (2982) نے عفیف بن سالم کے طریق سے اسے ابن رکانہ کے واسطے کے بغیر روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي عمر العدني في "مسنده" كما في "المطالب العالية" لابن حجر (1441)، و"إتحاف الخيرة المهرة" للبوصيري (2940) عن هشام بن سليمان، عن ابن جُرَيج، عن محمد بن علي بن يزيد بن ركانة، عن محمد بن عمر بن علي، مرسلًا
📖 حوالہ / مصدر: ابن ابی عمر عدنی نے اپنی مسند (المطالب العالیہ: 1441) اور بوصیری نے "اتحاف الخيرة" (2940) میں ابن جریج کے طریق سے اسے مرسل روایت کیا ہے۔
قال ابن جُرَيج: وأخبرني بمثل ذلك عن داود بن الحصين عن ابن عبد الأشهل؛ كذا عند البُوصيري، وعند ابن حجر: وأُخبرت بمثل ذلك عن داود بن الحصين عن أبي عبد الله الأشهلي. وأبو عبد الله الأشهلي: هو واقد بن عمرو بن سعد، وهو تابعي، فالحديث من طريقه مرسلٌ أيضًا. وإذا صحَّ ما وقع عند ابن حجر يكون في الإسناد أيضًا بين ابن جُرَيج وداود بن الحصين رجلٌ مبهم. ¤ ¤ وقد صحَّ عن ابن عباس من فتواه أنه كان لا يرى بأسًا أن يقول: عجِّل لي وأضعُ عنك. أخرجه عنه عبد الرزاق (14360)، وابن المنذر في "الأوسط" (8413)، والطحاوي في "مشكل الآثار" 11/ 61، والبيهقي 6/ 28.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن جریج کی ایک روایت میں "ابن عبد الاشهل" اور دوسری میں "ابو عبد اللہ الاشهلی" (واقد بن عمرو) کا ذکر ہے جو تابعی ہیں، لہذا یہ روایت مرسل ہے۔ ابن عباس سے صحیح طور پر مروی ہے کہ وہ "عجل لی واضع عنک" (جلدی ادائیگی پر قرض میں کمی) میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے (عبدالرزاق: 14360، طحاوی: 11/ 61)۔
وصحَّ عن ابن عمر وزيد بن ثابت القول بخلاف ذلك، كما أخرجه عنهما عبد الرزاق (14355) و (14359)، وابن المنذر في "الأوسط" (8409 - 8412)، والطحاوي 11/ 61 - 63، والبيهقي 6/ 28.
📌 اہم نکتہ: اس کے برعکس ابن عمر اور زید بن ثابت سے اس کی ممانعت صحیح سند سے مروی ہے (عبدالرزاق: 14355، بیہقی: 6/ 28)۔