المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
75. إذا كانت الهبة لذي رحم محرم لم يرجع فيها
قریبی محرم رشتہ دار کو دی گئی ہبہ واپس نہیں لیا جاتا۔
حدیث نمبر: 2355
حدثنا أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل بن إبراهيم بن المنصورِ أميرِ المؤمنين ببغداد في دار الخِلافة، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الهاشمي، حدثنا عبد الله بن جعفر الرَّقِّي، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن حماد، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة، عن النبي ﷺ، قال:"إذا كانت الهِبةُ لِذي رَحِمٍ مَحْرَمٍ، لم يُرجَعْ فيها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2324 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2324 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ذی رحم محرم کو تحفہ دے کر واپس نہیں لیا جا سکتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2355]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2355 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله ثقات عن آخرهم، وسماع الحسن - وهو البصري - من سمرة بن جندب في الجملة صحيح عندنا كما بيناه عند الحديث السالف برقم (151)، إلا أن ابن عبد الهادي والذهبي ¤ ¤ أنكرا هذا الحديث في كتابيهما "تنقيح التحقيق" مع اعترافهما بثقة رجاله، قال ابن عبد الهادي: وهو أنكر ما روي عن الحسن عن سَمُرة، والله أعلم. وقال البيهقي في "السنن" 6/ 181: لم نكتبه إلَّا بهذا الإسناد وليس بالقوي؛ كذا قال، ولعلّه ظن ما ظنه ابنُ الجوزي في "التحقيق"، من أنَّ عبد الله بن جعفر الذي جاء مطلقًا في روايتهما هو المديني والد علي، وهو ضعيف، لكن الصحيح أنه الرّقي، كما جاء مقيّدًا عند الحاكم، وهو ثقة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، اور حسن بصری کا سمرہ بن جندب سے سماع ہمارے نزدیک مجموعی طور پر صحیح ہے جیسا کہ رقم (151) پر گزر چکا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن عبد الہادی اور امام ذہبی نے اپنی کتب "تنقیح التحقیق" میں اس حدیث کی نکارت کا ذکر کیا ہے، ابن عبد الہادی کے بقول یہ حسن بصری کی سمرہ سے منکر ترین روایات میں سے ہے، جبکہ امام بیہقی (6/ 181) نے اسے غیر قوی قرار دیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ممکن ہے امام بیہقی اور ابن الجوزی کو یہ وہم ہوا ہو کہ اس میں "عبد اللہ بن جعفر" سے مراد علی بن مدینی کے والد (مدینی) ہیں جو کہ ضعیف ہیں، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ "رقی" ہیں جیسا کہ حاکم کے ہاں مقید ہے، اور وہ ثقہ ہیں۔
وأخرجه الدارقطني (2973)، والبيهقي 6/ 181 من طريق أبي علي إسماعيل بن محمد الصفار، عن عبد العزيز بن عبد الله الهاشمي، بهذا الإسناد. وقال الدارقطني: انفرد به عبد الله بن جعفر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (2973) اور بیہقی (6/ 181) نے اسماعیل بن محمد الصفار عن عبدالعزیز بن عبداللہ ہاشمی کی سند سے روایت کیا ہے، دارقطنی کے بقول اسے نقل کرنے میں عبداللہ بن جعفر منفرد ہیں۔
وقد صحَّ معنى هذا الحديث من مذهب عمر بن الخطاب الذي قدمنا ذكره بطرقه عند الحديث السابق، والذي نصَّ فيه على أنَّ الهبة لذي الرحم جائزة لا يُرجع فيها.
📌 اہم نکتہ: اس حدیث کا معنی حضرت عمر بن خطاب کے اس مذہب سے صحیح ثابت ہے جو ہم نے سابقہ حدیث میں کئی طرق سے ذکر کیا، جس میں صراحت ہے کہ ذی رحم (رشتہ دار) کے لیے کیا گیا ہبہ لازم ہے اور اس سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔
وظاهر هذا الحديث يعارض حديث ابن عباس وابن عمر السالف برقم (2329) مرفوعًا بلفظ: "لا يحل للرجل أن يُعطي العطية فيرجعَ فيها، إلّا الوالد فيما يُعطي ولده، ومثل الذي يعطي العطية فيرجع فيها كمثل الكلب أكل حتى إذا شبع قاء، ثم رجع في قيئه"، فهذا الحديث يدلُّ على النهي عن الرجوع في الهبة عمومًا سواء كانت لذي رحم أو غيره إلَّا الوالد لولده، وهو ما ذهب إليه الجمهور. وانظر "فتح الباري" 8/ 272، و"نيل الأوطار" 6/ 15.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: اس حدیث کا ظاہر ابن عباس اور ابن عمر کی مرفوع حدیث (رقم 2329) کے معارض ہے جس میں ہبہ سے رجوع کو کتے کی قے سے تشبیہ دی گئی ہے اور اسے حرام قرار دیا گیا ہے سوائے والد کے اپنے بیٹے کو دیے گئے ہبے کے۔ جمہور کا مذہب بھی یہی ہے کہ ہبہ سے رجوع جائز نہیں، خواہ ذی رحم ہو یا غیر ذی رحم۔ (دیکھیں: فتح الباری 8/ 272، نیل الاوطار 6/ 15)۔
والرحم المحرم، بفتح الميم والراء مخففة، أو بضم الميم وتشديد الراء: من يحرم نكاحه رجلًا كان أو امرأة.
📝 نوٹ / توضیح: "الرحم المَحْرَم" (یا المُحَرَّم) سے مراد وہ رشتہ دار ہے جس سے نکاح حرام ہو، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔