المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
77. ذكر تأمين الناس يوم فتح مكة إلا أربعة نفر
فتحِ مکہ کے دن لوگوں کو امان دینے کا ذکر، سوائے چار آدمیوں کے۔
حدیث نمبر: 2360
ما حدثنا أبو أحمد محمد بن محمد بن إسحاق العَدْل الصفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنّاد، حدثنا أسباطُ بن نَصْر، عن السُّدِّي، عن مُصعب بن سَعْد، عن أبيه، قال: لما كان يومُ فتحِ مكةَ أَمَّنَ رسولُ اللهِ ﷺ الناسَ إِلَّا أربعةَ نَفَرٍ وامرأتين، وقال:"اقتُلُوهم وإن وجدتموهم مُتعلِّقين بأستارِ الكعبة"؛ عِكْرمةُ بن أبي جهل، وعبدُ الله بن خَطَلٍ، ومِقْيَسُ بن صُبَابة، وعبد الله بن سَعْد بن أبي سَرْحٍ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2329 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2329 - صحيح
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن چار مرد اور دو عورتوں کے سِوا ہر شخص کو امان دی اور (ان چھے کے متعلق) فرمایا: یہ اگر تمہیں کعبہ کے پردوں میں لپٹے ہوئے مل جائیں تو ان کو مار ڈالو (وہ چار مرد یہ تھے): (1) سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ (یہ اس دن بھاگ کر بچ گئے تھے پھر ایمان لے آئے تھے)۔ (2) عبداللہ بن خطل۔ (3) مقیس صبابہ (بعض روایات میں مقیس بن ضبابہ ہے)۔ (4) سیدنا عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ (انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی پناہ لے لی تھی پھر انہی کی حفاظت میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر کلمہ پڑھ لیا تھا) [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2360]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2360 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن، السُّدِّي - وهو إسماعيل بن عبد الرحمن - وأسباط بن نصر صدوقان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے؛ سدی (اسماعیل بن عبدالرحمن) اور اسباط بن نصر دونوں "صدوق" (سچے) راوی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2683)، والنسائي (3516) من طريق أحمد بن المفضّل، عن أسباط بن نصر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد (2683) اور امام نسائی (3516) نے احمد بن مفضل کے طریق سے اسباط بن نصر سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔