🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. حكاية بيع سرق وعتقه ووجه تسميته
سرق نامی غلام کے بیچنے اور آزاد کرنے کا واقعہ اور اس کے نام کی وجہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2361
حدثنا علي بن عيسى الحِيرِي، حدثنا محمد بن إسحاق بن خُزيمة، حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دِينار، حدثنا زيد بن أسلم، قال: رأيتُ شيخًا بالإسكندرية يقال له: سُرَّقٌ، فقلتُ له: ما هذا الاسمُ؟ قال: اسمٌ سمّانِيهِ رسولُ الله ﷺ ولن أدَعَه، قلتُ: ولمَ سَمّاك؟ قال: قدمتُ المدينةَ فأخبرتهم أنَّ أموالي [تَقدَمُ] فبايَعُوني (2) ، واستَهلَكْتُ أموالهم، فأتَوْا بي النبيَّ ﷺ، فقال:"أنت سُرَّقٌ"، وباعَني بأربعةِ أبعِرَةٍ، فقال الغُرَماءُ للذين (3) اشتَرَوني: ما تَصنَعُون به؟ قالوا: نُعتِقُه، قالوا: فلسنا بأزهدَ في الآخرة منكم (4) ، فأعتَقُوني بينَهم، وبقي اسمي (5)
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2330 - على شرط البخاري
سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے اسکندریہ میں ایک شخص کو دیکھا جس کو سرق کہا جاتا ہے میں نے اس سے پوچھا یہ کیا نام ہے؟ اس نے جواب دیا: میرا یہ نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا اور میں اس کو ہرگز نہیں چھوڑ سکتا، میں نے پوچھا: آپ کا یہ نام کیوں رکھا گیا؟ اس نے کہا: میں مدینہ منورہ آیا اور ان کو خبر دی کہ میرے مالکوں نے مجھے بیچ دیا ہے اور ان کے اموال ہلاک ہو گئے ہیں، وہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو سرق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اونٹنیوں کے عوض بیچ دیا اور جن تاجروں نے مجھے خریدا تھا، آپ نے ان سے کہا: تم اس کا کیا کرو گے؟ انہوں نے کہا: ہم اس کو آزاد کریں گے، انہوں نے کہا: آخرت کی تم سے زیادہ ہمیں ضرورت ہے تو انہوں نے وہیں پر مجھے آزاد کر دیا اور میرا یہ نام باقی بچ گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2361]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2361 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في النسخ الخطية: أنَّ موالي باعوني، وهو خطأ، وما أثبتناه هو الموافق لما في رواية البيهقي عن الحاكم وغيره ممَّن رواه.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "أن موالي باعوني" (میرے مولیٰ نے مجھے بیچا) لکھا ہے جو کہ غلط ہے، ہم نے اسے بیہقی اور حاکم کی روایات کے مطابق درست کیا ہے۔
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: فقال للغرماء الذين. فأوهم ذلك أنَّ النبي ﷺ هو من خاطب الغُرماء بذلك، ولا يستقيم ذلك مع لحاق الكلام، الذي يفيد أنَّ الغرماء هم الذين خاطبوا من أراد أن يشتري سُرَّقًا، وعلى ذلك جاءت الرواية عند سائر من خرَّج الحديث.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں عبارت کی تبدیلی سے یہ وہم پیدا ہو رہا تھا کہ نبی ﷺ نے قرض خواہوں سے خطاب کیا، جبکہ سیاق و سباق اور دیگر روایات سے ثابت ہے کہ یہ خطاب ان لوگوں سے تھا جو "سُرَّق" (راوی کا نام) کو خریدنا چاہتے تھے۔
(4) وقع في النسخ الخطية: منك. بصيغة المفرد، وهو خطأ، لأنَّ سياق الكلام يأباه، فالمخاطَبون الذين أرادوا شراء سُرَّقٍ جماعةٌ، كذا عند المصنف، وهو بخلاف ما وقع في "سنن البيهقي الكبرى" 6/ 50 عن أبي عبد الله الحاكم، عن أبي الوليد الفقيه وعن علي بن عيسى الحيري، كلاهما عن ابن خزيمة، حيث جاء فيه: قال الغرماء للذي اشتراني: ما تصنع به؟ قال: أُعتقه، قالوا: فلسنا بأزهد في الأجر منك. فيستقيم حينئذٍ ضمير الإفراد.
📝 نوٹ / توضیح: نسخوں میں "منک" (واحد) مروی ہے، لیکن سیاق کے مطابق "منکم" (جمع) ہونا چاہیے کیونکہ مخاطب ایک جماعت تھی۔ البتہ بیہقی (6/ 50) کی حاکم سے روایت میں "الذی اشترانی" (جس نے مجھے خریدا) کے الفاظ ہیں، وہاں صیغہ واحد درست ہو جاتا ہے۔
(5) ضعيف لاضطراب إسناده، وعبد الرحمن بن عبد الله بن دينار ليس بذاك القوي وعنده ¤ ¤ ما يُنكر وقد خولف في إسناده كما سيأتي.
⚖️ درجۂ حدیث: سند میں اضطراب کی وجہ سے ضعیف ہے۔ عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار زیادہ قوی نہیں ہیں اور ان کی روایات میں منکر باتیں پائی جاتی ہیں، نیز ان کی مخالفت بھی کی گئی ہے۔
وأخرجه البيهقي 6/ 50 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی (6/ 50) نے حاکم نیشاپوری کی سند سے اسی طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدارقطني (3027)، والبيهقي 6/ 50 من طريقين عن ابن خزيمة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (3027) اور بیہقی نے امام ابن خزیمہ کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو بكر الرُّوياني في "مسنده" (1487) عن محمد بن بشار، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوبکر رویانی نے اپنی "مسند" (1487) میں محمد بن بشار کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (1875)، وفي "شرح معاني الآثار" 4/ 157، وابن عدي في "الكامل" 4/ 299 من طريق إبراهيم بن مرزوق، وابن عبد الحَكَم في "فتوح مصر والمغرب" ص 544 عن محمد بن عبد الجبار - وهو المخزومي - والذهبي في "تذكرة الحفاظ" 3/ 77 من طريق محمد بن المثنى، ثلاثتهم عن عبد الصمد بن عبد الوارث، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طحاوی، ابن عدی (الکامل: 4/ 299)، ابن عبدالحکم اور امام ذہبی (تذکرۃ الحفاظ: 3/ 77) نے عبدالصمد بن عبدالوارث کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وقد خالف هؤلاء الأربعةَ أبو قلابة عبد الملك بن محمد الرقاشي كما سيأتي عند المصنف برقم (7239)، فقال: عن عبد الصمد، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن زيد بن أسلم، عن عبد الرحمن بن البيلماني، عن سُرَّق. فزاد فيه ابن البيلماني، وهو ضعيف.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو قلابہ رقاش نے (رقم 7239 پر) عبدالصمد سے روایت میں "ابن البیلمانی" کا اضافہ کیا ہے جو کہ ضعیف راوی ہے۔
ورواه كذلك مسلم بن خالد الزنجي عند ابن سعد في "الطبقات الكبرى" 9/ 509 (وتحرَّف اسم مسلم في المطبوع منه إلى: هشام)، وابن أبي خيثمة في السفر الثاني من "تاريخه الكبير" (1056)، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (2648)، وأبي القاسم البَغَوي في "معجم الصحابة" (1207)، والطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (1876)، وفي "شرح معاني الآثار" 4/ 157، وأبي جعفر النحاس في "الناسخ والمنسوخ" ص 261، والطبراني في "المعجم الكبير" (6716)، والدارقطني (3025)، وأبي نعيم في "معرفة الصحابة" (3667)، حيث رواه عن زيد بن أسلم، عن ابن البيلماني، عن سُرَّق. ومسلم بن خالد فيه ضعف.
📖 حوالہ / مصدر: مسلم بن خالد زنجی نے ابن سعد (9/ 509)، ابن ابی خیثمہ، ابن ابی عاصم، بغوی، طحاوی، طبرانی، دارقطنی اور ابو نعیم کے ہاں اسے زید بن اسلم عن ابن البیلمانی عن سرق کے طریق سے روایت کیا ہے۔ مسلم زنجی میں ضعف پایا جاتا ہے۔
ورواه عن زيد بن أسلم ابناهُ عبدُ الرحمن وعبدُ الله، عند الدارقطني (3026)، فلم يذكرا فيه ابن البيلماني. وفيهما ضعف أيضًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: زید بن اسلم کے بیٹوں عبدالرحمن اور عبداللہ نے دارقطنی (3026) کے ہاں اسے بغیر "ابن البیلمانی" کے روایت کیا ہے، مگر یہ دونوں بیٹے بھی ضعیف ہیں۔
وأخرج نحوه مختصرًا الطبراني في "الكبير" 22/ (745) من طريق ابن لهيعة، عن بكر بن سوادة، عن أبي عبد الرحمن الحبلي، عن أبي عبد الرحمن القيني: أنّ سرق اشترى … وإسناده ضعيف.
⚖️ درجۂ حدیث: طبرانی (22/ 745) نے ابن لہیعہ کے طریق سے اسے مختصراً روایت کیا ہے، مگر اس کی سند بھی ضعیف ہے۔
وعلى فرض ثبوت هذا الخبر، فقد قال الطحاوي: الحكم الذي في هذا الحديث قد كان في أول الإسلام على ما في هذا الحديث وعمل به رسولُ الله ﷺ، إذ كان في شريعة مَن كان قبله من الأنبياء صلوات الله عليهم. ثم قال: فاستعمله رسول الله ﷺ إذ كان من شريعته اتباع شرائع النبيين الذين كانوا قبله حتى يُحدث الله في شريعته ما نسخ ذلك، فلم يزل كذلك حتى أنزل الله ﷿ عليه ما نسخ به ذلك الحكم، وهو قوله ﷿ في آية الربا: ﴿وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ﴾. ¤ ¤ وقال البيهقي: وفي إجماع العلماء على خلافه - وهم لا يُجمعون على ترك رواية ثابتة - دليل على ضعفه، أو نسخه إن كان ثابتًا، وبالله التوفيق.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: امام طحاوی کے مطابق اگر یہ روایت ثابت مان لی جائے تو یہ ابتدائی اسلام کے حکم پر محمول ہوگی جو بعد میں آیتِ ربا: ﴿وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ﴾ سے منسوخ ہو گیا۔ امام بیہقی فرماتے ہیں کہ علماء کا اس کے خلاف اجماع اس کے ضعف یا منسوخ ہونے کی دلیل ہے۔