المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
82. النهي عن البيع فى المسجد ونشدان الضالة فيه
مسجد میں خرید و فروخت کرنے اور وہاں گمشدہ چیز کی آواز لگانے سے ممانعت۔
حدیث نمبر: 2371
أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا أبو عمر الحَوضي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن محمد بن إسحاق، عن يزيد بن أبي حبيب، عن مسلم بن جُبير، عن أبي سفيان، عن عبد الله بن عمرو: أنَّ رسول الله ﷺ أمَرَه أن يجهِّزَ جيشًا، فنَفِدَتِ الإبل، فأمرني رسول الله ﷺ أن آخُذَ من قَلائِص الصدقة، فكنت آخذ البعيرَ بالبعيرَين (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2340 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2340 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لشکر کی تیاری کا حکم دیا تو کچھ اونٹ کم پڑ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صدقہ کے اونٹوں میں سے لینے کا حکم دیا، میں نے دو اونٹوں کے بدلے ایک اونٹ (کے طور پر) لے لیے۔ (یعنی ابھی ایک اونٹ لے لیا ہے بعد میں اس کے بدلے میں دو اونٹ ادا کیے جائیں گے۔ شفیق) ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2371]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2371 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث حسن، وهذا إسناد فيه ضعف واضطراب كما بيناه في "مسند أحمد" 11/ (6593).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "حدیث حسن" ہے، اگرچہ اس سند میں ضعف اور اضطراب موجود ہے۔
وقد وقع في رواية أبي عمر الحوضي عند غير الحاكم بين أبي سفيان وبين عبد الله بن عمرو بن العاص رجل هو عمرو بن الحريش، وهو الصحيح، وابن الحريش هذا مجهول، لكن روي الحديث عن عبد الله بن عمرو من وجه آخر حسن. أبو عمر الحوضي: هو حفص بن عمر، وأبو سفيان: هو الجُرشي أو الحَرَشي، ولا يعرف اسمه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: درست یہ ہے کہ ابوسفیان اور عبداللہ بن عمرو کے درمیان "عمرو بن حریش" کا واسطہ ہے جو کہ مجہول ہے، تاہم دیگر طرق سے یہ روایت "حسن" بن جاتی ہے۔
وأخرجه أبو داود (3357) عن أبي عمر الحوضي حفص بن عمر، بهذا الإسناد. لكنه زاد بين أبي سفيان وبين عبد الله بن عمرو رجلًا هو عمرو بن الحريش.
📖 حوالہ / مصدر: امام ابوداؤد (3357) نے اسے عمرو بن حریش کے اضافے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 11/ (6593) من طريق جرير بن حازم، و (7025) من طريق إبراهيم بن سعد، كلاهما عن محمد بن إسحاق، عن أبي سفيان، عن مسلم بن جبير، عن عمرو بن الحريش، عن عبد الله بن عمرو. فأسقط من الإسناد يزيد بن أبي حبيب، وقدم أبا سفيان على مسلم بن جبير، وزاد ذكر عمرو بن الحريش.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام احمد کی روایت میں یزید بن ابی حبیب کا واسطہ ساقط ہے اور ترتیب میں تقدیم و تاخیر پائی جاتی ہے۔
وله طريق أخرى أخرجها الدارقطني (3052)، والبيهقي 5/ 287 - 288 عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده عبد الله بن عمرو، وقواها الحافظُ في "الفتح" 7/ 263.
🧩 متابعات و شواہد: اس کا ایک اور طریق "عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ" سے ہے جسے حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (7/ 263) میں قوی قرار دیا ہے۔
القلائص: الفَتيّة من الإبل.
📝 نوٹ / توضیح: "قلائص" جوان اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے۔
وانظر لزامًا ما تقدم برقم (2282).
📝 نوٹ / توضیح: اس موضوع پر سابقہ روایت رقم (2282) کا مطالعہ ضروری ہے۔