🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
87. الرهن محلوب ومركوب
گروی رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانا (دودھ دوہنا، سواری کرنا) جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2378
حدثنا أبو العباس أحمد بن زياد الفقيه بالدامَغَان، حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا سليمان بن حرب. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنى، حدثنا شَيبان بن فَرُّوخ؛ قالا: حدثنا أبو عَوَانة، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"الرَّهنُ مَركُوبٌ ومَحلُوبٌ" (1) . قال الأعمش: فذكرتُ ذلك لإبراهيم، فكَرِهَ أن يُنتَفَع بشيءٍ منه. هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لإجماع الثَّوْري وشُعبة على توقيفه عن الأعمش، وأنا على أصْلي الذي أصّلتُه في قَبُول الزيادة من الثقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2347 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رہن کا دودھ دھویا جائے گا اور اس پر سواری کی جائے گی۔ ٭٭ اعمش فرماتے ہیں: میں نے اس حدیث کا تذکرہ ابراہیم سے کیا تو انہوں نے رہن سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانے کو ناپسند کیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ ثوری اور شعبہ دونوں نے اس کو اعمش کے حوالے سے موقوف کیا ہے اور میں ثقہ کی جانب سے زیادتی کو قبول کرنے میں اپنے قانون پر عمل پیرا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2378]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2378 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، وقد اختُلِف في رفعه ووقفه على الأعمش - وهو سليمان بن مهران - فرفعه أبو عوانة - وهو الوضاح بن عبد الله اليشكُري - كما وقع عند المصنف هنا، وكذلك رفعه علي بن محمد الطنافسي عن أبي معاوية محمد بن خازم الضرير عن الأعمش، لكن قال أبو حاتم كما في "العلل" لابنه (1113): رفعه مرةً ثم ترك بعدُ الرفعَ، فكان يقفه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے؛ اگرچہ اس کے "مرفوع" (نبی ﷺ کا قول) یا "موقوف" (صحابی کا قول) ہونے میں اختلاف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو عوانہ اور طنافسی نے اسے مرفوع بیان کیا ہے، جبکہ ابو حاتم کے بقول اسے کبھی مرفوع اور کبھی موقوف پڑھا گیا۔
وجاء مرفوعًا أيضًا في رواية سعيد بن منصور، عن هُشَيم بن بشير، عن الأعمش، كما قال ابنُ حزم في "المحلى" 8/ 92، إلّا أنه قال: عن أبي هريرة يرفع الحديث فيما زعم، قال: قال رسول الله ﷺ.
📖 حوالہ / مصدر: سعید بن منصور نے ہشیم کے طریق سے اسے حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے جیسا کہ ابن حزم نے "المحلی" میں ذکر کیا ہے۔
وذكر الدارقطني في "العلل" (1903) أنَّ لُوينًا رواه عن عيسى بن يونس عن الأعمش، فرفعه.
🧩 متابعات و شواہد: امام دارقطنی نے ذکر کیا ہے کہ لوین اور عیسیٰ بن یونس نے بھی اسے مرفوع روایت کیا ہے۔
وأنَّ وهب بن جرير رواه عن شعبة بن الحجاج عن الأعمش، مرفوعًا كذلك.
🧩 متابعات و شواہد: شعبہ بن الحجاج (امیر المؤمنین فی الحدیث) نے بھی اسے مرفوعاً نقل کیا ہے۔
وأنَّ خلّاد بن أسلم الصفار رواه عن منصور بن المعتمر عن أبي صالح، مرفوعًا. ثم رجَّح ¤ ¤ الدارقطني الموقوف بأنَّ أكثر أصحاب الأعمش وقفوه، وأنَّ غير خلّادٍ رواه عن منصور عن إبراهيم النخعي عن أبي هريرة موقوفًا.
⚖️ ترجیح: امام دارقطنی نے اسے "موقوف" قرار دینے کو ترجیح دی ہے کیونکہ اکثر راویوں نے اسے موقوف ہی بیان کیا ہے۔
قلنا: وروي من وجه آخر عن أبي هريرة مرفوعًا أيضًا، كما سيأتي، فلا بُعدَ أن يكون أصل حديث الأعمش مرفوعًا، ثم كان يشك في رفعه فيقفه أحيانًا تورُّعًا، كما كانت عادة كثير من المحدثين، ومثل هذا لا يمنع الحكم بصحة المرفوع، خصوصًا وقد جاء من وجه آخر عن أبي هريرة مرفوعًا كما سبق، والله تعالى أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: ہم کہتے ہیں کہ چونکہ یہ روایت دیگر طرق سے بھی مرفوعاً ثابت ہے، اس لیے اسے "صحیح مرفوع" تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ محدثین بسا اوقات احتیاطاً مرفوع روایت کو موقوف کر دیتے تھے۔
وقد احتجَّ به أحمد وابن راهويه كما في "مسائل إسحاق بن منصور" (1959).
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: امام احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ نے اس حدیث سے (رہن کے مسائل میں) احتجاج کیا ہے اور اسے دلیل مانا ہے۔
وأخرجه أحمد 12/ (7125)، والبخاري (2511) و (2512)، وأبو داود (3526)، وابن ماجه (2440)، والترمذي (1254)، وابن حبان (5935) من طريق عامر الشعبي، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "الرهن يُركَب بنفقته إذا كان مرهونًا، ولبن الدَّرِّ يُشرَب بنفقته إذا كان مرهونًا، وعلى الذي يركب ويَشرب النفقةُ".
📖 حوالہ / مصدر: بخاری (2511) اور دیگر کتب میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ: "مرہونہ جانور پر اس کے خرچے کے بدلے سواری کی جائے گی اور دودھ دینے والے جانور کا دودھ اس کے چارے کے خرچے کے عوض پیا جائے گا"۔
وذكر الحافظ في "فتح الباري" 8/ 92 أنَّ هذا مساوٍ لحديث الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة في المعنى، وأنَّ فيه زيادةً أيضًا عليه.
📌 اہم نکتہ: حافظ ابن حجر کے مطابق یہ روایت معنی کے لحاظ سے اعمش کی روایت کے برابر ہے بلکہ اس میں کچھ اضافے بھی ہیں۔