🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
87. الرهن محلوب ومركوب
گروی رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانا (دودھ دوہنا، سواری کرنا) جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2387
حدثنا أبو الحَسَن محمد بن محمد بن الحسن، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا إبراهيم بن عبد الله الهَرَوي، حدثنا هُشَيم، حدثنا عبد الحميد بن جعفر الأنصاري، عن أبيه، عن سمرة بن جُندُب، قال: أيَّمَتْ أمّي وقَدمتِ المدينةَ، فخَطَبها الناسُ، فقالت: لا أتزوجُ إلّا برجلٍ يَكفُل لي هذا اليتيمَ، فتزوجها رجلٌ من الأنصار. قال: فكان رسولُ الله ﷺ يَعرِضُ غلمانَ الأنصار في كل عامٍ فيُلحِقُ من أدركَ منهم، قال: فعُرِضتُ عامًا، فألحق غُلامًا وردَّني، فقلتُ: يا رسول الله، لقد ألحقتَه ورَدَدْتَني، ولو صارعتُه لصَرَعتُه، قال:"فصارِعْه"، فصارعتُه فصَرَعتُه، فألحَقَني (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2356 - صحيح
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری ماں بیوہ ہو گئی اور مدینۃ المنورہ آئی تو کئی لوگوں نے ان کو پیغام نکاح بھیجا لیکن انہوں نے یہ جواب دیا کہ میں صرف اس شخص سے نکاح کروں گی جو اس یتیم کی پرورش کا ذمہ لے گا تو ایک انصاری شخص نے (یہ شرط منظور کرتے ہوئے) ان سے نکاح کر لیا، سمرہ فرماتے ہیں: ہر سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے لڑکوں کا جائزہ لیا کرتے تھے، ان میں سے جو اس قابل ہوتا اس کو (فوج میں) شامل کر لیا جاتا تھا، سمرہ فرماتے ہیں: ایک سال مجھے بھی پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک (دوسرے) لڑکے کو شامل کر لیا اور مجھے واپس بھیج دیا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس کو شامل کر لیا ہے اور مجھے چھوڑ دیا حالانکہ اگر میں اس سے کشتی کروں تو میں اس کو چت کر سکتا ہوں، سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ میری کشتی کروا دی تو میں نے اسے پچھاڑ دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی شامل کر لیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2387]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2387 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رجاله ثقات، لكن أكثر من رواه عن هُشَيم جعلوه من حديث جعفر مرسلًا يحكي فيه قصة أم سمرة وابنها، وقد جزم ابن معين في "سؤالات ابن الجنيد" بأنَّ جعفرًا والد عبد الحميد - وهو جعفر بن عبد الله بن الحكم بن رافع بن سنان - لم يلق سمرة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اگرچہ راوی ثقہ ہیں، مگر ہشیم کے اکثر شاگردوں نے اسے "مرسل" روایت کیا ہے۔ یحییٰ بن معین کے مطابق جعفر بن عبداللہ نے سمرہ بن جندب کو نہیں پایا (ملاقات ثابت نہیں)۔
وأخرجه البيهقي 9/ 22 و 10/ 18 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: بیہقی نے اسے حاکم نیشاپوری کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد بن حنبل في "العلل" (5708) عن إبراهيم بن عبد الله الهروي، به. ¤ ¤ وأخرجه الطبراني في "الكبير" (6749) عن محمد بن عبدوس بن كامل، عن إبراهيم بن عبد الله الهروي، به. لكنه قال: عن جعفر: أنَّ أم سمرة، فذكره مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: عبداللہ بن احمد اور طبرانی کی روایات میں یہ صراحت ہے کہ یہ "مرسل" ہے۔
وأخرجه الطحاوي في "شرح معاني الآثار" 3/ 219 من طريق محمد بن عيسى بن الطباع، عن هُشَيم به. فقال: عن سمرة بن جندب.
📖 حوالہ / مصدر: امام طحاوی کی روایت میں سمرہ بن جندب کا نام موصولاً ذکر ہوا ہے۔
وأخرجه أحمد بن حنبل في "العلل" (5708) عن هُشَيم بن بشير، والروياني في "مسنده" (856) من طريق أبي الأحوص محمد بن حيان، وأبو القاسم البَغَوي في "معجم الصحابة" (1135) عن زياد بن أيوب، وأبو نعيم في "رياضة الأبدان" (1)، وفي "معرفة الصحابة" (3578) و (7957) من طريق يعقوب بن إبراهيم، وابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 301 من طريق سعيد بن عبد الحميد بن جعفر، كلهم عن هُشَيم بن بشير، عن عبد الحميد بن جعفر، عن أبيه: أنَّ أم سمرة، فذكروه مرسلًا، وذكر أحمد بن حنبل أنه سمعه من هُشَيم مرتين كذلك.
⚖️ ترجیح: امام احمد، رویانی اور ابو نعیم سمیت تمام نے اسے ہشیم سے "مرسل" ہی روایت کیا ہے، اور یہی راجح ہے۔