🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
88. الشركة فى التجارة
تجارت میں شراکت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2389
أخبرنا أبو عون محمد بن أحمد بن ماهان الجزّار بمكة على الصّفا، أخبرنا محمد بن علي بن زيد، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثنا عبد الرحمن بن الحارث بن عبد الله بن عيّاش بن أبي ربيعة، عن الزُّهْري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن الصَّعْب بن جَثّامة: أنَّ رسول الله ﷺ حَمَى النَّقيعَ، وقال:"لا حِمَى إِلَّا للهِ ولرَسولِه" (1) . قد اتفقا على حديث يونس عن الزُّهْري بإسناده:"لا حِمَى إِلَّا للهِ ولرسولِه"، ولم يُخرجاه هكذا، وهو صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2358 - على شرط البخاري ومسلم وأخرجا منه آخره
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیع کو حمی بنایا اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی کی حمی نہیں ہے۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے زہری سے روایت کردہ اس کی سند کے ہمراہ یونس کی یہ حدیث نقل کی ہے لَا حِمَی اِلَّا لِلّٰہِ وَلِرَسُوْلِہٖ لیکن اس انداز میں انہوں نے اس حدیث کو نقل کیا ہے حالانکہ یہ صحیح الاسناد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2389]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2389 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح دون ذكر حماية النَّقيع، فقد تفرَّد بوصله عبد الرحمن بن الحارث بن عبد الله بن عياش، وليس هو بالقوي، وخالفه الثقة الحافظ يونس بن يزيد الأيلي، فروى الحديث عن الزُّهْري، فوصل قوله: "لا حمى إلّا لله ولرسوله"، وقال: بلغنا أنَّ النبي ﷺ حمى النقيع، لكنه مع كونه من بلاغات الزُّهْري له ما يشهد له كما سيأتي.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، مگر "نقیع" (چراگاہ) کو محفوظ کرنے کا ذکر عبدالرحمن بن الحارث کی انفرادیت ہے جو کہ قوی راوی نہیں ہے۔ یونس الایلی جیسے ثقہ راوی نے اسے زہری کے "بلاغات" (بغیر سند کی اطلاع) میں ذکر کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (3084) عن سعيد بن منصور، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام ابوداؤد نے سعید بن منصور کے طریق سے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في زياداته على "المسند" 27/ (16659) عن مصعب الزُّبَيري، عن عبد العزيز بن محمد - وهو الدراوردي - به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبداللہ بن احمد نے "زیاداتِ مسند" میں الدراوردی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (2370)، وأبو داود (3083) من طريق يونس بن يزيد الأيلي، عن الزُّهْري، به بلفظ: إنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا حمى إلّا لله ولرسوله". وقال - يعني الزُّهْري، كما جاء موضحًا في رواية أبي داود -: بلغنا أنَّ النبي ﷺ حمى النقيع.
📖 حوالہ / مصدر: بخاری (2370) میں "نقیع" کی چراگاہ کا ذکر امام زہری کے قول کے طور پر آیا ہے کہ "ہمیں یہ اطلاع پہنچی ہے" (بلاغ)۔
وأخرجه دون ذكر حمى النقيع أحمد (16422) و (16425) و (16666)، وابنه عبد الله (16657) و (16679)، والبخاري (3012)، والنسائي (5743) و (8570)، وابن حبان (136) و (137) و (4684) و (4787) من طرق عن الزهري، به.
📖 حوالہ / مصدر: "نقیع" کے ذکر کے بغیر یہ حدیث بخاری، احمد، نسائی اور ابن حبان میں متعدد طرق سے مروی ہے۔
ويشهد له حديث أبي هريرة عند ابن حبان (4685).
🧩 متابعات و شواہد: ابن حبان میں حضرت ابوہریرہ کی روایت اس کی شاہد ہے۔
ويشهد لبلاغ الزُّهْري حديث عبد الله بن عمر عند أحمد 9/ (5655)، وابن حبان (4683) من طريقين عن ابن عمر، لكن في كل منهما رجل ضعيف، فيجبُرُ كلٌّ منهما صاحبَه.
🧩 متابعات و شواہد: نقیع کی چراگاہ سے متعلق زہری کی بات کی تائید عبداللہ بن عمر کی روایت سے ہوتی ہے، اگرچہ اس کے راوی ضعیف ہیں مگر وہ ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔
ويشهد له أيضًا مرسل نوفل بن مساحق من رواية ابنه عبد الملك عنه، عند الخطيب في "تاريخه" 4/ 34، ورجاله ثقات، وهو أيضًا عند عمر بن شبة في "تاريخ المدينة" 1/ 156 لكنه جعله من مرسل ابنه عبد الملك (وتحرّف في المطبوع اسم عبد الملك إلى: عبد الله).
🧩 متابعات و شواہد: نوفل بن مساحق کی "مرسل" روایت بھی اس کی شاہد ہے جس کے راوی ثقہ ہیں۔