🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
97. أحكام الكنز إذا وجده الرجل
دفینہ (کنز) ملنے کے احکام۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2405
حدثنا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ؛ قال عليّ: حدثنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، قال: سَمِعْناه من داود بن شابُور ويعقوب بن عطاء، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده عبد الله بن عمرو: أنَّ رسول الله ﷺ قال في كَنْز وجده رجلٌ، فقال:"إن كنتَ وجدْتَه في قريةٍ مسكونةٍ، أو في سبيلٍ مِيتاءٍ، فعَرِّفْه، وإن كنتَ وجدْتَه في خَرِبةٍ جاهليةٍ، أو في قريةٍ غير مسكونةٍ، أو غير سبيلٍ مِيتاءٍ، ففيه وفي الرِّكازِ الخُمسُ" (2) . قد أكثرتُ في هذا الكتاب الحُجَجَ في تصحيح روايات عمرو بن شعيب إذا كان الراوي عنه ثقة، ولا يُذكَر عنه أحسنُ من هذه الروايات، وكنتُ أطلب الحجةَ الظاهرةَ في سماع شعيب بن محمد من عبد الله بن عمرو فلم أصِلْ إليها إلى هذا الوقت.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2374 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی کو ملنے والے خزانے کے متعلق ارشاد فرمایا: اگر تجھے یہ رہائشی علاقے یا ویران راستے سے ملا ہے تو اس کا اعلان کر اور اگر تجھے یہ جاہلیت کی ویران جگہ سے یا غیر رہائشی علاقے سے یا غیر ویران راستے سے ملا ہے تو اس میں اور زمین دہاتوں میں خمس لازم ہے۔ ٭٭ عمرو بن شعیب کی روایات کو صحیح قرار دینے میں اس کتاب میں، میں نے کافی دلیلیں ذکر کی ہیں، جب ان سے روایت کرنے والا ثقہ ہو اور ان سے ان روایات سے بڑھ کر زیادہ بہتر روایات ذکر نہیں کی گئیں اور میں مسلسل کسی ایسی دلیل کی تلاش میں رہا جو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے شعیب بن عمرو رضی اللہ عنہ سے شعیب بن محمد کے سماع پر بین ثبوت ہو لیکن ابھی تک مجھے ایسی کوئی دلیل نہیں ملی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2405]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2405 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وقال أبو الطيب العظيم آبادي في "عون المعبود" 5/ 92 - 93: حديث عمرو بن شعيب فيه حكم للشيئين، الأول: ما وُجد مدفونًا في الأرض، وهو الركاز، والثاني: ما وُجد على وجه الأرض في خربة جاهلية أو قرية غير مسكونة أو غير سبيل مِيتاء، ففيهما الخمس.
📚 فقہی نکتہ: عظیم آبادی کے مطابق اس حدیث میں دو چیزوں کا حکم ہے: ایک وہ جو زمین میں دبا ہوا ملے (رکاز) اور دوسرا وہ جو غیر آباد جگہ یا غیر معروف راستے پر ملے؛ دونوں صورتوں میں "خمس" (پانچواں حصہ) دینا واجب ہے۔
(2) إسناده حسن. الحميدي: هو عبد الله بن الزُّبَير الأسدي المكي، وسفيان: هو ابن عُيينة.
⚖️ درجۂ حدیث: سند "حسن" ہے؛ الحمیدی اور سفیان بن عیینہ اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 11/ (6891)، وأبو داود (1710)، والنسائي (2285) و (5795 - 5797) من طرق عن عمرو بن شعيب، به. ورواية بعضهم مختصرة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد اور نسائی نے عمرو بن شعیب کے طریق سے روایت کیا ہے۔
والطريق المِيتاء، أي: المسلوك، وهو مِفعال من الإتيان، والميم زائدة، وبابه الهمزة.
📝 لغوی تشریح: "طریق میتاء" سے مراد وہ راستہ ہے جس پر لوگ کثرت سے چلتے ہوں (عام گزرگاہ)۔
قال ابن الأثير في "النهاية": الركاز عند أهل الحجاز: كنوز الجاهلية المدفونة في الأرض، وعند أهل العراق: المعادن. والقولان تحتملهما اللغة لأنَّ كلًّا منهما مركوز في الأرض، أي: ثابت. والحديث إنما جاء في التفسير الأول، وهو الكنز الجاهلي.
📝 لغوی تشریح: ابن الاثیر کے مطابق اہلِ حجاز "رکاز" سے مراد زمین میں دبے ہوئے جاہلیت کے خزانے لیتے ہیں، جبکہ اہلِ عراق کے نزدیک اس سے مراد معدنیات ہیں۔ حدیث میں پہلا معنی (خزانہ) مراد ہے۔