🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. قفلة كغزوة
واپسی بھی غزوے کی طرح ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2431
أخبرني أبو بكر محمد بن إبراهيم البَزّاز ببغداد، حدثنا سِمَاك بن عبد الصمد، حدثنا أبو مُسهِر عبد الأعلى بن مُسهِر الغَسّاني، حدثنا إسماعيل بن عبد الله، حدثني الأوزاعي، حدثني سليمان بن حبيب، عن أبي أُمامة الباهلي، عن رسول الله ﷺ قال:"ثلاثةٌ كلُّهم ضامِنٌ على الله: رجلٌ خَرَج غازيًا في سبيل الله، فهو ضامِنٌ على الله حتى يَتَوفَّاهُ، فيُدخِلَه الجنةَ، أو يَرُدَّه بما نال من أجرٍ أو غنيمةٍ، ورجلٌ راحَ إلى المسجدِ، فهو ضامنٌ على الله حتى يَتَوفَّاهُ، فيُدخِلَه الجنةَ، أو يَرُدَّه بما نالَ من أجرٍ أو غنيمةٍ، ورجلٌ دَخَلَ بيتَه بالسَّلامِ، فهو ضامنٌ على الله" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2400 - صحيح
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں جن کا ضامن اللہ تعالیٰ ہے: (1) وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلا ہو، وہ اللہ کی ضمان میں ہے یہاں تک کہ وہ اس کو وفات دے دے اور اسے جنت میں داخل کر دے یا اسے ثواب یا غنیمت کے ساتھ واپس بھیج دے۔ (2) وہ شخص جو دل کی خوشی کے ساتھ مسجد میں جائے، وہ بھی اللہ کے ضمان پر ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو وفات دے دے اور اسے جنت میں داخل کر دے یا اس کو اجر و ثواب دے کر واپس بھیج دے۔ (3) وہ شخص جو اللہ کے گھر میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو، وہ بھی اللہ کے ضمان پر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2431]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2431 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. وأبو بكر محمد بن إبراهيم البزاز: هو الحافظ أبو بكر الشافعي صاحب "الغَيلانيات"، ونسبه هنا لجده، واسم أبيه عبد الله.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی ابو بکر محمد بن ابراہیم البزاز سے مراد مشہور حافظ ابوبکر الشافعی (صاحب الغیلانیات) ہیں، یہاں ان کی نسبت دادا کی طرف کی گئی ہے جبکہ ان کے والد کا نام عبداللہ ہے۔
وأخرجه أبو داود (2494) عن عبد السلام بن عَتيق، عن أبي مسهر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: ابوداؤد (2494) نے عبدالسلام بن عتیق عن ابی مسہر کی سند سے اسے روایت کیا ہے۔
وقوله: ضامنٌ، أي: مضمون، فاعل بمعنى مفعول، كقوله تعالى: ﴿فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ﴾ أي: مَرضيَة، وقوله تعالى: ﴿مِنْ مَاءٍ دَافِقٍ﴾ أي: مدفوق. قاله الخطّابي.
📝 نوٹ / توضیح: امام خطابی کے مطابق لفظ "ضامن" یہاں "مضمون" کے معنی میں ہے (اسم فاعل اسم مفعول کے معنی میں)، جیسے قرآن میں "عیشۃ راضیۃ" سے مراد پسندیدہ زندگی ہے اور "ماء دافق" سے مراد اچھالا گیا پانی ہے۔