🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. قفلة كغزوة
واپسی بھی غزوے کی طرح ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2432
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عُمر (2) بن مالك الشَّرْعَبِي، عن عُبيد الله بن أبي جعفر، عن صفوان بن سُلَيم، عن سلمان الأغَرّ، عن أبي هريرة، قال: أمر رسولُ الله ﷺ بسَريّةٍ تخرُجُ، فقالوا: يا رسول الله، أنخرُجُ الليلةَ أم حتى نُصبِحَ؟ قال:"أوَلا تحبُّون أن تَبيتُوا في خِرَافٍ من خِرَافِ الجنة؟" (1) . والخَرِيفُ: الحديقةُ.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2401 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر کو نکلنے کا حکم دیا، وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم رات کے وقت ہی روانہ ہو جائیں یا صبح تک رکیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ تمہاری رات جنت کے باغیچے میں بسر ہو؟ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2432]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2432 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) وقع في (ز) وحدها: عَمرو، ثم كأنَّ الواو مُحيت فيها، وهذا هو الصحيح في اسمه، وقد ذكره الحافظ مرة أخرى فيمن اسمه عمرو في "تهذيب التهذيب"، وقال: صوابه: عُمر، بالضم. قلنا: وقد رواه البيهقي في "السنن" 9/ 158 عن الحاكم، فقال في روايته: عُمر، على الصواب.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) میں "عمرو" لکھا تھا جسے مٹا کر درست کیا گیا، حافظ ابن حجر نے "تہذیب التہذیب" میں واضح کیا کہ درست نام "عُمر" (بضم العین) ہے۔ بیہقی نے السنن 9/ 158 میں اسے حاکم سے روایت کرتے ہوئے درست طور پر "عُمر" ہی لکھا ہے۔
(1) حديث صحيح، وهذا إسنادٌ قوي من أجل عُمر بن مالك الشَّرْعبي، فهو صدوق لا بأس به، وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عمر بن مالک الشرعبی کی وجہ سے یہ سند قوی ہے، وہ صدوق راوی ہیں اور ان کی متابعت بھی کی گئی ہے۔
وأخرجه النسائي (8783) عن الحارث بن مسكين، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: نسائی (8783) نے الحارث بن مسکین عن عبداللہ بن وہب کی سند سے اسے روایت کیا ہے۔
وقد رواهُ ابنُ وهب أيضًا عن عبد الله بن لهيعة، كما وقع في رواية ابن المقرئ في "معجمه" (33). وروايته عنه جيدة قديمة قبل احتراق كتبه.
🧩 متابعات و شواہد: ابن وہب نے اسے عبداللہ بن لہیعہ سے بھی روایت کیا ہے جیسا کہ ابن المقرئ کے "معجم" (33) میں ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن وہب کا ابن لہیعہ سے سماع کتب جلنے سے پہلے کا ہے، اس لیے یہ روایت جید (بہتر) ہے۔