المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. قفلة كغزوة
واپسی بھی غزوے کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 2433
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذان، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا عبد العزيز بن محمد [عن سُهيل بن أبي صالح] (2) عن محمد بن مسلم بن عائذ، عن عامر بن سعد بن أبي وقّاص، عن أبيه: أنَّ رجلًا جاء إلى الصلاةِ والنبيُّ ﷺ يُصلي بنا، فقال حينَ انتهى إلى الصفِّ: اللهم آتِني أفضلَ ما تُؤتي عِبادَك الصالحين، فلما قَضَى النبيُّ ﷺ الصلاةَ، قال:"مَنِ المُتكلِّمُ آنفًا؟" فقال الرجلُ: أنا يا رسول الله؟ فقال النبي ﷺ:"إذًا يُعقرَ جَوادُك، وتُستَشهَدَ في سبيلِ الله" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2402 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2402 - صحيح
سیدنا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نماز کے لیے آیا، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھا رہے تھے، اس نے صف تک پہنچ کر کہا: اے اللہ! مجھے اس سے بھی بہتر اجر عطا فرما جو تو نے اپنے برگزیدہ بندوں کو عطا فرمایا ہے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا چکے تو پوچھا کہ ابھی کس کی آواز آ رہی تھی؟ اس آدمی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس مرتبے تک تو تب پہنچے گا جب تیرے) گھوڑے کی کونچیں کٹ جائیں گی اور تو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2433]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2433 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) سقط من النسخ الخطية هنا، وثَبَتَ للمصنف في الرواية المتقدمة برقم (759) من طريق إبراهيم بن حمزة الزُّبَيري عن عبد العزيز بن محمد الدراوردي، وهو الصحيح، كما جاء في سائر مصادر تخريج الحديث.
📝 نوٹ / توضیح: یہاں سے یہ حصہ قلمی نسخوں میں ساقط ہے، لیکن مصنف کے ہاں سابقہ روایت (759) میں ابراہیم بن حمزہ الزبیری عن الدراوردی کے طریق سے ثابت ہے، اور یہی دیگر مصادر کے مطابق صحیح ہے۔
(3) حسن لغيره، محمد بن مسلم بن عائذ - وإن لم يرو عنه غير سهيل بن أبي صالح، وجهله أبو حاتم - وثقه العجلي، وذكره ابن حبان في "الثقات" وصحح حديثه، وصحَّحه كذلك ابن خزيمة، ولحديثه هذا ما يشهد له، كما تقدم برقم (759) من طريق إبراهيم بن حمزة الزُّبَيري عن عبد العزيز بن محمد الدراوردي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "حسن لغیرہ" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی محمد بن مسلم بن عائذ کو اگرچہ ابو حاتم نے مجہول کہا ہے، مگر عجلی اور ابن حبان نے ان کی توثیق کی ہے اور ابن خزیمہ نے ان کی حدیث صحیح قرار دی ہے۔ اس روایت کا شاہد حدیث (759) میں موجود ہے۔