المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
110. من علم أن الصلاة عليه حق واجب دخل الجنة
جس نے جان لیا کہ آپ ﷺ پر درود بھیجنا حق اور فرض ہے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حدیث نمبر: 244
حدَّثَناه أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكْرَم، حدثنا عثمان بن عمر ورَوْح بن عُبادة قالا: حدثنا عِمران بن حُدَير، عن عبد الملك بن عُبيد قال: سمعت حُمْرانَ بن أبَان قال: سمعت عثمانَ بن عفَّان - وكان قليل الحديث عن رسول الله ﷺ (2) - عن رسول الله ﷺ قال:"مَن عَلِمَ أنَّ الصلاةَ عليه حقٌّ واجبٌ، دَخَلَ الجنةَ" (3) .
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ (جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت کم احادیث بیان کرتے تھے) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص یہ جان لے کہ نماز اس پر ایک حقِ واجب ہے، وہ جنت میں داخل ہو گیا۔“
اس سند کے ساتھ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) موجود ہے، جسے شیخین نے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 244]
اس سند کے ساتھ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) موجود ہے، جسے شیخین نے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 244]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 244 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) قوله: "عن رسول الله ﷺ" من (ز) وحدها.
📝 نوٹ / توضیح: الفاظ "عن رسول اللہ ﷺ" صرف نسخہ (ز) میں موجود ہیں۔
(3) إسناده ضعيف لجهالة عبد الملك بن عبيد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبدالملک بن عبید کے مجہول (نامعلوم حال) ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في زياداته على "المسند" 1/ (423) عن عبيد الله بن عمر القواريري، عن عثمان بن عمر وحده، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبداللہ بن احمد نے "مسند" کی زیادات (ج1، ص 423) میں عبیداللہ بن عمر القواریری کے واسطے سے، انہوں نے تنہا عثمان بن عمر سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر في هذا الباب حديث حنظلة الكاتب عند أحمد 30/ (18345).
📝 نوٹ / توضیح: اسی باب میں حنظلہ کاتب کی حدیث "مسند احمد" (ج30، ص 18345) میں ملاحظہ فرمائیں۔