🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. من سأل الله القتل من عند نفسه صادقا ثم مات أو قتل ، فله أجر الشهيد
جس نے سچے دل سے اللہ سے شہادت مانگی، پھر وہ مر گیا یا قتل ہو گیا، اسے شہید کا اجر ملے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2443
وحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، حدثني عبد الرحمن بن شُريح، أنَّ سَهْل بن أبي أُمامة بن سَهْل بن حُنَيف حدثه عن أبيه، عن جده، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن سألَ اللهَ الشهادةَ بصِدْقٍ، بَلَّغَهُ اللهُ منازِلَ الشُّهداءِ وإن ماتَ على فِراشِه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2412 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت طلب کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو شہداء کے مرتبے میں پہنچا دیتا ہے اگرچہ وہ اپنے بستر پر فوت ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2443]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2443 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. ابن وهب: هو عبد الله.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابن وہب سے مراد عبداللہ بن وہب ہیں۔
وأخرجه مسلم (1909)، وأبو داود (1520) وابن ماجه (2797)، والنسائي (4355)، وابن حبان (3192) من طرق عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسلم (1909)، ابوداؤد، ابن ماجہ، نسائی اور ابن حبان نے ابن وہب کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام حاکم کا اسے (مستدرک میں) لانا ان کی بھول ہے کیونکہ یہ پہلے ہی صحیح مسلم میں موجود ہے۔
وأخرجه الترمذي (1653) من طريق القاسم بن كثير، عن عبد الرحمن بن شريح، به. وقال: حسن غريب.
📖 حوالہ / مصدر: امام ترمذی نے اسے القاسم بن کثیر عن عبدالرحمن بن شریح کے طریق سے روایت کر کے "حسن غریب" کہا ہے۔