🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. لا تتمنوا لقاء العدو وسلوا الله العافية
دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2444
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن موسى بن عُقْبة، عن سالم أبي النَّضْر مولى عمر بن عُبَيد الله - وكان كاتبًا له - قال: كَتَب إليه عبدُ الله بن أبي أَوفى حينَ خَرَج إلى الحَرُورية كتابًا، فإذا فيه: أنَّ رسول الله ﷺ قال:"أيها الناسُ، لا تَتَمَنَّوا لقاءَ العَدُوِّ، وسَلُوا اللهَ العافيةَ، فإذا لَقيتُموهم فاصبِرُوا، واعلَمُوا أنَّ الجنةَ تحتَ ظِلال السُّيوفِ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2413 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمر بن عبداللہ کے آزاد کردہ غلام سالم ابوالنضر فرماتے ہیں: جب عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ حروریہ (خوارج کا ایک گروہ ہے جو کہ مقام حروراء کی طرف منسوب ہے، ان کو حروراء کی جانب اس لیے منسوب کیا جاتا ہے کیونکہ ان کا پہلا اجتماع اس مقام پر ہوا تھا۔ شفیق) پر چڑھائی کی تو انہوں نے ان کی جانب ایک مکتوب لکھا، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان درج تھا اے لوگو! دشمن سے مڈبھیڑ کی دعا مت مانگا کرو (بلکہ) اس سے عافیت مانگا کرو اور جب دشمن سے سامنا ہو جائے تو پھر صبر کرو اور یہ بات یاد رکھو! جنت، تلواروں کے سائے میں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2444]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2444 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل محبوب بن موسى، وقد توبع. أبو إسحاق ¤ ¤ الفَزَاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث، وسالم أبو النضر: هو سالم بن أبي أمية.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور محبوب بن موسیٰ کی وجہ سے سند قوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو اسحاق الفزاری سے مراد ابراہیم بن محمد ہیں اور سالم ابو النضر سے مراد سالم بن ابی امیہ ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2631) عن أبي صالح محبوب بن موسى، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام ابوداؤد (2631) نے اسی سند کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (2818) و (2833) و (2966) و (3024) من طريقين عن أبي إسحاق الفزاري، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام بخاری نے اسے ابواسحاق الفزاری کے دو طرق سے چار مقامات پر روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (1742) من طريق ابن جُرَيج، عن موسى بن عُقبة، به. فاستدراك الحاكم له على الشيخين ذهول منه.
📖 حوالہ / مصدر: امام مسلم (1742) نے ابن جریج عن موسیٰ بن عقبہ کی سند سے اسے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام حاکم کا اسے بخاری و مسلم کی شرط پر لانا بھول ہے کیونکہ یہ دونوں کے ہاں پہلے ہی موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 31/ (19114) من طريق أبي حيّان يحيى بن سعيد بن حيّان التيمي، عن شيخ بالمدينة: أنَّ عبد الله بن أبي أوفى كتب إلى عُبيد الله … الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے ابوحیان التیمی کے طریق سے روایت کیا ہے جس میں ایک نامعلوم "شیخ بالمدینہ" کا ذکر ہے۔
وقال أبو حاتم فيما نقله عنه ابنه في "العلل" (985): نرى أنَّ هذا الشيخ من أهل المدينة هو أبو النضر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام ابو حاتم کے نزدیک اس نامعلوم مدنی شیخ سے مراد "ابو النضر" (سالم) ہیں۔
وقد سبقه إلى ذلك سفيان الثَّوري عند ابن صاعد في "مسند ابن أبي أوفى" (27) حيث قال: أظنه سالمًا أبا النضر. قلنا: لكن أخطأ فيه أبو حيان في تسمية الذي كتب له ابنُ أبي أوفى الكتابَ، فسماه عبيدَ الله بنَ معمر، كما قُيِّد في أكثر الروايات عن أبي حيان، وإنما هو عُمر بنُ عُبيد الله بن معمر التَّيمي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: سفیان ثوری کا بھی یہی خیال تھا، مگر ابو حیان نے خط (مکتوب الیہ) پانے والے کا نام غلطی سے عبیداللہ بن معمر بتایا، جبکہ درست نام "عمر بن عبیداللہ بن معمر التیمی" ہے۔
ولقوله: "الجنة تحت ظلال السيوف" شاهد بإسناد جيد عن أبي موسى الأشعري سلف برقم (2419).
🧩 متابعات و شواہد: "جنت تلواروں کے سائے تلے ہے" کے جملے کا ایک جید شاہد حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کی روایت سے پیچھے نمبر (2419) پر گزر چکا ہے۔
والحَرُورية: هم طائفة من الخوارج ممَّن قاتل علي بن أبي طالب ﵁، نُسبوا إلى حروراء، بالمد والقصر، وهو موضع قريب من الكوفة، وكان أول اجتماعهم فيه.
📝 نوٹ / توضیح: "حروریہ" خارجیوں کا وہ گروہ ہے جنہوں نے حضرت علیؓ سے جنگ کی، انہیں کوفہ کے قریب "حروراء" نامی جگہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جہاں وہ پہلی بار اکٹھے ہوئے تھے۔