🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. حرمت النار على عين دمعت من خشية الله ، حرمت النار على عين سهرت فى سبيل الله
وہ آنکھ جس سے اللہ کے خوف سے آنسو بہے اور وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں جاگتی رہے، دونوں پر آگ حرام ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2464
أخبرني أحمد بن محمد بن سلمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو تَوبة الربيعُ بن نافع الحَلَبي، حدثنا معاوية بن سلّام، أخبرني زيد بن سلّام، حدثني أبو كَبْشة السَّلُولي، أنه سمع سَهلَ ابن الحَنْظَلية يَذكُر: أنهم سارُوا مع رسول الله ﷺ يومَ حُنينٍ، فأطنَبُوا السَّيرَ حتى كان عشيّةً، فحضرتُ الصلاةَ عند رسول الله ﷺ، فجاء رجلٌ فارسٌ، فقال: يا رسول الله، إني انطلقتُ بين أيديكم حتى طَلَعتُ جَبَل كذا وكذا، فإذا أنا بهوازِنَ على بَكْرةِ أبيهم بظُعُنِهم ونَعَمِهم وشائِهم، فاجتمعوا إلى حُنينٍ، فتبسَّم رسولُ الله ﷺ فقال:"تلكَ غَنيمةُ المسلمين غدًا إن شاء الله"، ثم قال:"من يَحرُسُنا الليلةَ؟" فقال أنس بن أبي مَرثَد الغَنَوي: أنا يا رسول الله، فقال:"اركَبْ"، فركِبَ فرسًا له، فجاء إلى رسولِ الله ﷺ، فقال له رسول الله ﷺ:"استقبِلْ هذا الشعْبَ حتى تكونَ في أعلاهُ، ولا نُغرَّنَّ من قِبَلِك الليلةَ". فلما أصبحنا خرجَ رسولُ الله ﷺ إلى مُصلّاهُ، فركع ركعتَين، ثم قال:"هل حَسَسْتُم فارِسَكم؟" فقال رجلٌ: ما حَسَسْنا، فثُوِّبَ بالصلاةِ، فجعلَ رسولُ الله ﷺ يَلتَفِتُ إلى الشِّعبِ حتى قَضَى صلاتَه، فقال:"أبشِروا، فقد جاءَ فارِسُكُم"، قال: فجعلنا ننظُر إلى ظِلِّ الشجرِ في الشِّعْبِ، فإذا هو قد جاءَ حتى وَقَفَ على رسولِ الله ﷺ، فسَلَّم، فقال: إني انطلقتُ حتى كنتُ في أعلى هذا الشِّعْبِ، حيث أمرني رسولُ الله، فلما أصبحتُ اطَّلَعتُ على الشِّعْبَين، فنَظَرتُ فلم أرَ أحدًا، فقال له رسولُ الله ﷺ:"نزلتَ الليلةَ؟" فقال: لا، إلّا مُصلِّيًا أو قاضيَ حاجةٍ، فقال له رسول الله ﷺ:"قد أَوجَبْتَ، فلا عليكَ أن لا تَعمَلَ بعدَها" (1) . هذا الإسنادُ من أوّلِه إلى آخرِه صحيحٌ على شرط الشيخَين، غير أنهما لم يُخرجا مَسانيدَ سهل ابن الحَنْظَليّة، لقِلّة رواية التابعين عنه (1) ، وهو من كِبار الصحابة على ما قَدّمتُ القول في أوانه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2433 - على شرط البخاري ومسلم لكن لم يخرجا لسهل وهو صحابي كبير
سیدنا ابوکبثہ سلولی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سہل بن حنظلیہ ذکر کیا کرتے تھے کہ ان لوگوں نے حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بہت لمبا سفر کیا یہاں تک کہ جب رات کا وقت ہوا تو ہم لوگ نماز پڑھنے کے لیے آپ کے پاس حاضر تھے کہ ایک گھڑ سوار آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ لوگوں کے آگے آگے جا رہا تھا، میں فلاں پہاڑ پر جب چڑھا تو میں نے قبیلہ ہوازن کو دیکھا کہ وہ اپنے اونٹ، گھوڑوں، بیل، بکریوں اور سامان ضرب و حرب کے ہمراہ حنین میں جمع ہو رہے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا یہ تمام کل انشاء اللہ مسلمانوں کے لیے مالِ غنیمت ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات کون پہرہ دے گا؟ سیدنا انس بن مرشد الغنوی رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوار ہو جاؤ، وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پہاڑی راستے کی طرف چلے جاؤ اور اس کی بلکل چوٹی پر پہنچ جاؤ اور رات میں تمہاری جانب سے کوئی شخص ادھر نہیں آنا چاہیے، جب صبح ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جائے نماز کی طرف تشریف لائے اور دو رکعت ادا کر کے پوچھا: کیا تم نے اپنے گھوڑے سوار کو محسوس کیا ہے؟ تو ایک آدمی نے کہا، ہم نے محسوس نہیں کیا، پھر نماز کے لیے تثویب کہی گئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پہاڑی راستے کی جانب متوجہ رہے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھا دی تو فرمایا: تمہیں خوشخبری ہو کہ تمہارا سوار آ رہا ہے، ہم اس پہاڑی راستے میں درخت کے نیچے دیکھنے لگے تو وہ واقعی آ رہا تھا وہ سیدھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑا ہوا اور سلام کیا، اور کہنے لگا: میں چلتا رہا حتیٰ کہ میں اس پہاڑی راستے کے اونچے مقام پر پہنچ گیا، راستوں میں دیکھا لیکن مجھے کوئی آدمی نظر نہیں آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا رات میں تو اپنی ڈیوٹی سے ہٹا تھا؟ اس نے کہا: صرف نماز پڑھنے اور قضائے حاجت کے علاوہ میں وہاں سے نہیں ہٹا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو جنتی ہے، اس کے بعد اگر تو کوئی بھی نیک عمل نہیں کرے گا پھر بھی تجھ پر کوئی مؤخذہ نہیں ہے۔ ٭٭ یہ پوری سند شروع سے آخر تک امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے سہل بن حنظلیہ کی مسانید نقل نہیں کیں، کیونکہ ان سے روایت کرنے والے تابعین کی تعداد بہت کم ہے، حالانکہ یہ کبار صحابہ رضی اللہ عنہم میں شمار ہوتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2464]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2464 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسنادٌ رجاله ثقات، لكنه سقط منه في رواية الحاكم ذكر أبي سلَّام - واسمه ممطُور الحَبشي - بين زيد بن سلّام وأبي كبشة السَّلُولي، وإنما جزمْنا بسقوطه في رواية ¤ ¤ الحاكم لأنَّ البيهقي رواه عنه في "سننه الكبرى" 9/ 149، فلم يذكره أيضًا، والصحيح إثباته في الرواية، لأنَّ سائر من رواه عن أبي توبة ذكره، وقد تقدم عند المصنف برقم (784) من طريق إبراهيم بن الحسين - وهو المعروف بابن دِيزِيل - عن أبي توبة، بإثباته، فلا ندري الوهم هنا من عثمان بن سعيد أم ممّن دونه، على أنَّ زيد بن سلّام لم يدرك الرواية عن مثل أبي كبشة السَّلُولي، والله تعالى أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور راوی ثقہ ہیں، مگر امام حاکم کی روایت سے "ابوسلام ممطور الحبشی" کا نام گر گیا ہے۔ زید بن سلام کا ابوکبشہ سلولی سے براہِ راست سماع ثابت نہیں۔
وأخرجه أبو داود (2506) عن أبي توبة، وأخرجه النسائي (8819) عن محمد بن يحيى بن محمد بن كثير الحراني، عن أبي توبة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (2506) اور نسائی (8819) نے ابوتوبہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله: "فأطنبوا السير"، أي: بالغوا فيه.
📝 نوٹ / توضیح: "اطنبوا السیر" کا مطلب ہے سفر کی انتہا کر دینا یا خوب تیز سفر کرنا۔
وقوله: "بَكْرة أبيهم" أي: جاؤوا بأسرِهم ولم يتخلَّف منهم أحدٌ.
📝 نوٹ / توضیح: "بکرہ ابیہِم" کا مطلب ہے کہ وہ سب کے سب آگئے، کوئی پیچھے نہ رہا۔
وقوله: "فثوِّب بالصلاة"، أي: نُودي إليها وأُقيمت
📝 نوٹ / توضیح: "ثوّب بالصلاۃ" یعنی نماز کے لیے پکارا گیا اور اقامت کہی گئی۔
وقوله: "بظُعُنهم" أي: بنسائهم، واحدته: ظَعِينة.
📝 نوٹ / توضیح: "ظُعُن" سے مراد ان کی عورتیں ہیں۔
وقوله: "ونَعَمهم" أي: إبلهم وشائهم وبقرهم، وسائر المال الراعي، وأكثر ما يقع على الإبل.
📝 نوٹ / توضیح: "نَعَم" سے مراد ان کے اونٹ، بھیڑیں اور گائے وغیرہ مویشی ہیں، زیادہ تر یہ اونٹوں کے لیے بولا جاتا ہے۔
وقوله: "أوجبْتَ" أي: فعلتَ فعلًا وجبتْ لك به الجنة.
📝 نوٹ / توضیح: "اوجبت" کا مطلب ہے تم نے ایسا عمل کیا جس نے تمہارے لیے جنت واجب کر دی۔
وقوله: "لا عليك أن لا تعمل بعدها" قال الطِّيبي في "شرح المشكاة" 12/ 3800: أي: لا بأس عليك أن لا تعمل بعد هذه الليلة من المَبَرّات والخيرات، فإنَّ عملك الليلة كافٍ لك عند الله مثوبةً وفضيلةً، أراد النوافلَ والتبرعاتِ من الأعمال، لا الفرائض، فإنَّ ذلك لا يسقط، ويمكن أن يُنزِّل على ما عليه من عمل الجهاد في ذلك اليوم جبرانًا لقلبه وتسلية له.
📚 مجموعی اصول: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ایک رات کی فضیلت اتنی زیادہ ہے کہ اگر تم اس کے بعد نفلی عبادات اور خیر کے کام نہ بھی کر سکو تو یہ رات تمہارے اجر کے لیے کافی ہے۔ اس سے مراد فرائض کی معافی نہیں، بلکہ نفل کاموں کی ترغیب اور جہاد کی فضیلت بیان کرنا ہے۔
(1) بنى المصنِّف قولَه هذا على ما ادَّعاه في كتابه "المدخل إلى معرفة كتاب الإكليل" بأنَّ شرط الحديث عند البخاري ومسلم أن يكون كل راوٍ في الحديث له راويان ثقتان فأكثر من لدن الصحابي إليهما، وهذه الدعوى باطلة، كما بينه جملةٌ من العلماء ممَّن رد عليه فيها، كالحازمي ومحمد بن طاهر المقدسي وغيرهما، وقد نبهنا عليه غير مرة. وانظر الحديث السالف برقم (97).
📌 اہم نکتہ: امام حاکم نے اپنی کتاب "المدخل" میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ بخاری و مسلم کی شرط یہ ہے کہ ہر راوی کے کم از کم دو ثقہ شاگرد ہوں، حالانکہ یہ دعویٰ باطل ہے جیسا کہ علامہ حازمی اور مقدسی نے اس کی تردید کی ہے۔ اس پر تفصیلی بحث حدیث نمبر (97) کے تحت گزر چکی ہے۔