المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
24. حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ دَمَعَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ، حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
وہ آنکھ جس سے اللہ کے خوف سے آنسو بہے اور وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں جاگتی رہے، دونوں پر آگ حرام ہے۔
حدیث نمبر: 2465
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني حَيْوة بن شُريح، عن يزيد بن أبي حبيب، عن أسلمَ أبي عِمْران، قال: غَزَونا من المدينة نريد القُسطَنْطِينيّة، وعلى الجماعة عبدُ الرحمن بن خالد بن الوليد، والرومُ مُلْصِقُو ظُهورِهم بحائطِ المدينة، فحَمَل رجلٌ على العدوِّ، فقال الناسُ: مَهْ مَهْ، لا إله إلّا الله، يُلقي بيدَيهِ إلى التَّهْلُكَة، فقال أبو أيوب: إنما أُنزلت هذه الآيةُ فينا معشرَ الأنصارِ، لمّا نَصَرَ اللهُ نبيَّه وأظهرَ الإسلامَ، قلنا: هَلُمَّ نُقيمُ في أموالنا ونُصلِحُها، فأنزل الله ﷿: ﴿وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ [البقرة: 195] ، فالإلقاء بأَيدِينا إلى التَّهْلُكَةِ أن نُقيمَ في أموالِنا ونُصلِحَها، ونَدَعَ الجهاد. قال أبو عِمْران: فلم يَزَلْ أبو أيوبَ يجاهدُ في سبيلِ الله حتى دُفِنَ بالقُسطَنْطِينيّة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2434 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2434 - على شرط البخاري ومسلم
اسلم ابوعمران سے روایت ہے کہ ہم مدینہ منورہ سے قسطنطنیہ کی طرف غزوے کے لیے نکلے، لشکر کے امیر سیدنا عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، رومیوں نے اپنی پیٹھیں شہر کی دیوار سے لگائی ہوئی تھیں، اچانک ایک شخص نے اکیلے ہی دشمن کے لشکر پر حملہ کر دیا، تو لوگ پکار اٹھے: ٹھہرو ٹھہرو! لا الہ الا اللہ، یہ شخص تو اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈال رہا ہے، تب سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! یہ آیت تو ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جب اللہ نے اپنے نبی کی مدد فرمائی اور اسلام کو غالب کر دیا تو ہم نے (اپنے دل میں) کہا: آؤ اب ہم اپنے مال و متاع میں قیام کریں اور ان کی اصلاح کریں، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ ”اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو“ [سورة البقرة: 195] ، پس اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں ڈالنا دراصل یہ ہے کہ ہم اپنے مال و اسباب کی اصلاح میں مگن ہو کر بیٹھ جائیں اور جہاد کو چھوڑ دیں، ابوعمران کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ آپ قسطنطنیہ میں ہی دفن ہوئے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2465]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2465]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن وهب: هو عبد الله، وأسلم أبو عمران: هو ابن يزيد التجيبي.» [ترقيم الرساله 2465] [ترقيم الشركة 2448] [ترقيم العلميه 2434]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2465 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. ابن وهب: هو عبد الله، وأسلم أبو عمران: هو ابن يزيد التجيبي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابن وہب سے مراد عبداللہ بن وہب اور اسلم ابو عمران سے مراد ابن یزید التجیبی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2512) عن أحمد بن عمرو بن السّرْح، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد، وقرن بحيوة عبدَ الله بن لهيعة.
📖 حوالہ / مصدر: امام ابوداؤد (2512) نے اسے احمد بن عمرو عن ابن وہب کی سند سے روایت کیا ہے، جس میں حیوہ کے ساتھ عبداللہ بن لہیعہ کا نام بھی شامل ہے۔
وأخرجه الترمذي (2972)، والنسائي (10961)، وابن حبان (4711) من طريق الضحاك بن مخلد أبي عاصم، والنسائي (10962) من طريق عبد الله بن المبارك، كلاهما عن حيوة بن شُريح، به. لكن جاء في رواية أبي عاصم: وعلى أهل مصر عقبة بن عامر، وعلى الجماعة فَضَالة بن عبيد، وفي رواية ابن المبارك: وعلى أهل مصر عقبة بن عامر، وعلى أهل الشام فَضَالة بن عُبيد، وكذلك جاء في رواية عبد الله بن يزيد المقرئ عن حيوة، كما سيأتي عند المصنف برقم (3125).
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے مختلف طرق سے حیوہ بن شریح سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: روایات میں اختلاف ہے کہ مصر پر عقبہ بن عامرؓ امیر تھے یا فضالہ بن عبیدؓ۔ حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی چوک ہے کیونکہ یہ اصولاً پہلے سے موجود ہے۔ مزید تفصیل حدیث (3125) اور (6041) میں آئے گی۔
وانظر ما سيأتي برقم (6041).
📝 نوٹ / توضیح: اس کی مزید تفصیل آگے حدیث نمبر (6041) میں دیکھیں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2465 in Urdu