المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. إن من إخوانكم قوما ليس لهم مال ولا عشيرة فليضم أحدكم إليه
تمہارے بعض بھائی ایسے بھی ہیں جن کے پاس نہ مال ہے نہ قبیلہ، تو تم میں سے ہر ایک انہیں اپنے ساتھ شامل کر لے۔
حدیث نمبر: 2482
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الورّاق، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو بكر بن أَبي شَيْبة، حدثنا عَبِيدة بن حُميد، حدثنا الأسود بن قيس، عن نُبَيح العَنَزي، عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله ﷺ: أنه أراد أن يغزوَ، فقال:"يا معشرَ المهاجرين والأنصار، إنَّ من إخوانِكم قومًا ليس لهم مالٌ ولا عَشِيرةٌ، فليَضُمَّ أحدُكم إليه الرجلَين أو الثلاثةَ، وما لأحدنا مِن ظهرِ جملِه إِلَّا عُقْبةٌ كَعُقْبةِ أحدِهم"، قال: فضمَمْتُ إليَّ اثنين أو ثلاثة، ما لي إلّا عُقبةٌ كعُقْبة أحدِهم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2451 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2451 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دفعہ) جہاد کا ارادہ فرمایا: تو کہا: اے مہاجرین اور انصار کے گروہ! تمہارے کچھ بھائی ایسے بھی ہیں جن کے پاس نہ مال ہے نہ خاندان، اس لیے تم دو دو یا تین تین کو اپنے ساتھ ملا لو اور ہم اپنے اونٹوں پر ان کی طرح باری کے مطابق ہی سواری کریں گے (جابر) فرماتے ہیں: تو میں نے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو ملا لیا اور میں ان کی طرح باری پر ہی سوار ہوتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2482]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2482 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. نُبيح العَنَزي: هو ابن عبد الله الكوفي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ نبیح العنزی کوفی راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 23/ (14863) عن عَبيدة بن حميد، وأخرجه أبو داود (2534) عن محمد بن سليمان الأنباري، عن عَبيدة بن حميد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابوداؤد (2534) نے عبیدہ بن حمید کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
والعُقبة، بالضم: ركوب مركبٍ واحدٍ بالنَّوبة على التعاقب.
📝 لغوی تشریح: "العقبہ" سے مراد باری باری ایک ہی سواری پر سوار ہونا ہے۔