🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. أظلتكم فتن كقطع الليل المظلم
تم پر ایسی فتنے چھا جائیں گے جیسے اندھیری رات کے ٹکڑے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2491
أخبرنا أحمد بن محمد العَنَزِي، حدثنا عثمان بن سعيد، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن نافع بن سَرْجِس (3) ، أنه سمع أبا هريرة يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"أَظلَّتْكم فِتنٌ كقِطَع الليل المُظلِم، أنجَى الناسِ منها صاحبُ شاهقةٍ يأكلُ من رِسْلِ غَنَمِه، أو رجلٌ مِن وراء الدُّروب آخذٌ بعِنانِ فَرسِه يأكلُ من فَيْءِ سيفِه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2460 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایآ: اندھیری رات کی سیاہی کی طرح فتنے تم پر سایہ فگن ہوں گے، ان سے نجات وہ پائے گا جو سسکیاں بھر کر رونے والا ہو گا، جو اپنے ریوڑ کی کمائی سے گزارا کرتا ہو گا یا وہ شخص جو بند گلی میں، اپنے گھوڑے کی لگام کو پکڑے ہوئے ہو، جو اپنی تلوار کی کمائی سے گزارا کرے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2491]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2491 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) أُقحم في الإسناد بين ابن خثيم ونافع بن سرجس في النسخ الخطية نافع بن جبير، فصار ¤ ¤ من رواية ابن خثيم عن نافع بن جبير عن نافع بن سرجس، وهذا خطأ يقينًا، فإن نافع بن سرجس قد تفرّد ابن خثيم بالرواية عنه، ولا يعرف هذا الحديث إلَّا من روايته عنه.
⚠️ تصحیحِ سہو: قلمی نسخوں میں ابن خثیم اور نافع بن سرجس کے درمیان "نافع بن جبیر" کا نام غلطی سے داخل ہو گیا ہے، جبکہ نافع بن سرجس سے صرف ابن خثیم ہی روایت کرتے ہیں۔
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، نافع بن سرجس - وإن لم يرو عنه غير عبد الله بن عثمان بن خثيم - وثَّقه ابن سعد في "الطبقات" 5/ 477، وذكره ابنُ حبان في "الثقات" 5/ 468، وقال الإمام أحمد في "العلل ومعرفة الرجال" (1620): ما أعلم إلَّا خيرًا. وأما ابن خثيم فصدوق لا بأس به، وقد اختُلف عليه في رفع هذا الحديث ووقفه، فرواه عنه مرفوعًا زهير بنُ معاوية وزائدةُ بن قُدامة فيما سيأتي عند المصنف برقم (8782)، ووقفه عنه معمر بن راشد فيما سيأتي عنده أيضًا برقم (8536) و (8643)، واللذان رفعاه حافظان، فرفعه صحيح، والله أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور سند حسن ہے۔ نافع بن سرجس ثقہ ہیں (بقول ابن سعد و ابن حبان)۔ 🔍 فنی نکتہ: ابن خثیم کے شاگردوں میں اس کے "مرفوع" (نبی ﷺ کا قول) یا "موقوف" ہونے میں اختلاف ہے، مگر رفع کرنے والے حفاظ ہیں، اس لیے "مرفوع" ہونا ہی صحیح ہے۔
وتقدم برقم (2410) من طريق سعيد بن يسار عن أبي هريرة مرفوعًا، بلفظ قريب من لفظه الذي هنا، لكن ليس فيه أنَّ ذلك زمن الفتن، ويُحمَل مُطلَق ما جاء هناك على ما قُيّد به هنا من أنَّ المقصود كون ذلك أيام الفتن، كما أفاده الحافظ ابن رجب الحنبلي في "شرح البخاري" 1/ 107.
🧩 شواہد و متابعات: یہ روایت (2410) پر گزر چکی ہے، مگر وہاں "فتنوں کے زمانے" کی قید نہیں تھی۔ حافظ ابن رجب کے بقول اس عام روایت کو یہاں کی مقید روایت پر محمول کیا جائے گا۔
قوله: "كقطع الليل المظلم" أي: كل فتنة كقطعة من الليل المظلم في شدتها وظلمتها وعدم تبيُّن أمرها.
📝 لغوی تشریح: "تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح" یعنی ہر فتنہ اپنی شدت اور ابہام میں اندھیری رات کی مانند ہوگا جس میں راستہ سجھائی نہیں دیتا۔
والشاهقة: الجبل العالي.
📝 لغوی تشریح: "شاہقہ" سے مراد اونچا پہاڑ ہے۔
ورِسْل الغنم، بكسر الراء: لبنها.
📝 لغوی تشریح: "رِسل" (راء کے کسرہ کے ساتھ) سے مراد بکری کا دودھ ہے۔
والعِنان، بكسر العين: سَيْر لجام الفرس.
📝 لغوی تشریح: "عِنان" گھوڑے کی لگام کے چمڑے کے تسمے کو کہتے ہیں۔
وفَيء السيف: هو ما يغنمه المجاهد، وهو من أحلِّ الكسب.
📝 لغوی تشریح: "فیء السیف" (تلوار کا فیء) سے مراد مالِ غنیمت ہے، جو حلال ترین کمائی ہے۔