🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
72. شِعَارُ الْقَبَائِلِ يَوْمَ بَدْرٍ .
غزوۂ بدر میں قبائل کے نعروں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2542
أخبرني الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا إسماعيل بن عبد الله بن زُرارة الرَّقّي، حدثنا عمر (1) بن صالح بن أبي الزاهِريّة الرَّقّي، قال سمعت أبا جَمْرة يقول: سمعت ابن عباس يقول: وَفَدَ على النبي ﷺ أربعُ مئة أهل بيتٍ -أو أربعُ مئة رجلٍ- من أزدِ شَنُوءة، فقال:"مرحبًا بالأزْدِ، أحسن الناس وجوهًا، وأطيبه أفواهًا، وأشجعِه لقاء، وآمنه أمانةً، شعارُكم: يا مَبرُورُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2511 - بل إسماعيل منكر الحديث
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ ازد شنوءہ کے چار سو خاندان یا چار سو افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وفد کی صورت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرحبا قبیلہ ازد والوں کو، جو چہروں کے اعتبار سے بہترین، منہ کی خوشبو کے لحاظ سے پاکیزہ، مقابلے کے وقت بہادر اور امانت کے معاملے میں قابلِ بھروسہ لوگ ہیں، تمہارا شعار (جنگی نعرہ) یا مبرور ہوگا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2542]
تخریج الحدیث: «إسناد ضعيف جدًّا من أجل عمر بن صالح بن أبي الزاهرية، فهو متروك الحديث. أبو جمرة: هو نصر بن عمران الضُّبَعي.» [ترقيم الرساله 2542] [ترقيم الشركة 2525] [ترقيم العلميه 2511]

الحكم على الحديث: إسناد ضعيف جدًّا من أجل عمر بن صالح بن أبي الزاهرية

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2542 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عمرو، والتصويب من (ب)، وهو الموافق لمصادر ترجمته، ومصادر تخريج الحديث.
🔍 فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں 'عمرو' تحریف ہے، درست نام وہی ہے جو نسخہ (ب) اور دیگر کتبِ تخریج میں ہے۔
(2) إسناد ضعيف جدًّا من أجل عمر بن صالح بن أبي الزاهرية، فهو متروك الحديث. أبو جمرة: هو نصر بن عمران الضُّبَعي.
⚖️ درجۂ حدیث: سند انتہائی ضعیف ہے کیونکہ عمر بن صالح 'متروک الحدیث' ہے۔ ابوجمرہ سے مراد نصر بن عمران الضبعی ہیں۔
وأخرجه العقيلي في "الضعفاء" (1135)، وابن أخي ميمي في "فوائده" (360) من طريق داود ابن رشيد وابن عدي في "الكامل" 5/ 29، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 45/ 80 من طريق عمرو بن عثمان الحمصي، كلاهما عن عمر بن صالح بن أبي الزاهرية، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عقیلی نے 'الضعفاء' میں، ابن عدی نے 'الکامل' میں اور ابن عساکر نے 'تاریخ دمشق' میں مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي ذكر شعار الأزد برقم (5213) بإسناد آخر عن الطفيل بن عمرو الدوسي، ورجاله لا بأس بهم غير أنَّ فيه انقطاعًا بين الطفيل بن عمرو والراوي عنه.
📖 حوالہ / مصدر: قبیلہ ازد کے نعرے کا ذکر آگے (5213) میں آئے گا، مگر اس میں انقطاع ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2542 in Urdu